خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 669 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 669

خطبات مسرور جلد 17 669 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019 قیس بن سعد، سعد بن عبادہ کے بیٹے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاقات کے لیے ہمارے گھر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر والوں کو سلام کیا۔قیس نے کہا کہ میرے والد سعد نے آہستہ سے جواب دیا۔میں نے کہا میں نے ان سے پوچھا، اپنے باپ سے پوچھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر آنے کا نہیں کہیں گے ؟ حضرت سعد نے ، باپ نے بیٹے کو یہ جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم پر زیادہ سلام کر لینے دو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر سلام کر کے واپس ہوئے۔یعنی آپ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا۔میں نے آہستہ سے جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سلام کریں گے تو اس طرح ہمارے گھر میں سلامتی پہنچے گی۔بہر حال کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کر کے واپس ہوئے تو پھر سعد آپ کے پیچھے گئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! میں آپ کے سلام کو سنتا اور آپ کو آہستہ سے جواب دیتا تا کہ آپ ہم پر زیادہ سلام بھیجیں۔پھر آپ سعد کے ہمراہ لوٹ آئے۔سعد نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل کا عرض کیا۔آپ نے غسل فرمایا۔سعد نے آپ کو زعفران یا ؤزس جو یمن کے علاقے میں پیدا ہونے والا ایک زردرنگ کا پودا ہے جس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں اس سے رنگا ہوا ایک لحاف دیا۔آپ نے اسے ارد گرد لپیٹ لیا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا۔اے اللہ ! اپنے درود اور اپنی رحمت سعد بن عبادہ کی اولاد پر نازل کر۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه جلد 2 صفحه 442 - 441 سعد بن عباده مطبوعه دارالکتب العلميه بيروت 2003ء)(عمدة القاری شرح صحیح البخاری جلد 2 صفحه 222 كتاب العلم مطبوعه دار الفكر بيروت) یہ روایت حضرت انس سے اس طرح مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن عبادہ کے ہاں اندر آنا چاہا، گھر میں جانا چاہا اور السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا۔حضرت سعد نے آہستہ سے کہا وعلیک السلام ورحمتہ اللہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی نہ دیا حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کیا اور سعد نے تینوں مرتبہ اسی طرح جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی نہ دیا۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔حضرت سعد آپ کے پیچھے گئے اور کہنے لگے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔آپ نے جتنی مرتبہ بھی سلام کہا میں نے اپنے کانوں سے سنا اور اس کا جواب دیا لیکن آپ کو نہیں سنایا۔آپ کو میری آواز نہیں آئی۔میں چاہتا تھا کہ آپ کی سلامتی اور برکت کی دعا کثرت سے حاصل کروں۔پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لے گئے اور کشمش پیش کی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول کرنے کے بعد فرمایا تمہارا کھانا نیک لوگ کھاتے رہیں اور تم پر ملائکہ رحمت کی دعائیں کرتے رہیں اور روزے دار تمہارے ہاں افطاری کرتے رہیں۔آپ نے ان کو دعا دی۔(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحه 356-357 مسند انس بن مالك حديث 12433، مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) علامہ ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ اہل صفہ جب شام کرتے تو ان میں سے کوئی شخص کسی ایک یادو کو