خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 668
خطبات مسرور جلد 17 668 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019 پھر کہتے ہیں کہ اسی کے متعلق جب حضرت ام ایوب سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے ہاں قیام فرمایا تھا اس لیے آپ بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا کون ساتھا ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی مخصوص کھانے کا کبھی حکم دیا ہو اور پھر وہ آپ کے لیے تیار کیا گیا ہو اور نہ ہی ہم نے کبھی یہ دیکھا کہ آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا ہو اور آپ نے اس میں عیب نکالا ہو۔یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب نے مجھے بتایا کہ ایک رات حضرت سعد بن عبادہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ بھجوایا جس میں طَفَيْشَل تھا۔یہ شوربہ کی ایک قسم ہے۔آپ نے وہ سیر ہو کر پیا اور میں نے اس کے علاوہ آپ کو کبھی اس طرح سیر ہو کر پیتے نہیں دیکھا۔پھر ہم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ بنایا کرتے تھے۔کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ لاؤ یاوہ پکاؤ۔کبھی عیب نہیں نکالا لیکن جو کھانا آتا تھا اس میں سے یہ کھانا آپ کو پسند آیا اور آپ نے بڑے شوق سے کھایا یا پیا۔اس کے بعد سے پھر صحابہ کو پتا لگ گیا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند ہے تو اس کے مطابق پھر بناتے تھے۔کہتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے هَرِیس، مشہور کھانا ہے جو گندم اور گوشت سے بنایا جاتا ہے ، یہ بھی بنایا کرتے تھے جو آپ کو پسند تھا اور رات کے کھانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پانچ سے لے کر سولہ تک افراد ہوتے تھے جس کا انحصار کھانے کی قلت یا کثرت پر ہو تا تھا۔(سبل الهدى والرشاد جلد3 صفحه 275 الباب السادس في قدومه الله باطن المدينة۔۔، دار الكتب العلمية بيروت 1993ء)(سبل الهدى والرشاد جلد 3 صفحه 279 الباب السادس فى قدومها الله باطن المدينة۔۔۔۔۔۔، دار الكتب العلميه (1993ء) (لغات الحدیث جلد 4 صفحہ 572 مطبوعہ علی آصف پر نٹر زلاہور 2005ء) حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی لکھا ہے۔کہتے ہیں کہ اس مکان میں آپ نے سات ماہ تک یا ابن اسحاق کی روایت کے مطابق اور ابن اسحاق کی روایت یہ ہے کہ ماہ صفر 2 1 ہجری تک قیام فرمایا تھا گویا جب تک مسجد نبوی اور اس کے ساتھ والے حجرے تیار نہیں ہو گئے آپ اسی جگہ مقیم رہے۔ابوایوب آپ کی خدمت میں کھانا بھجواتے تھے اور پھر جو کھانا بچ کر آتا تھا وہ حضرت ابو ایوب خود کھاتے تھے۔اور محبت و اخلاص کی وجہ سے اسی جگہ انگلیاں ڈالتے تھے جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا ہو تا۔دوسرے اصحاب بھی عموماً آپ کی خدمت میں کھانا بھیجا کرتے تھے۔چنانچہ ان لوگوں میں سعد بن عبادہ رئیس قبیلہ خزرج کا نام تاریخ میں خاص طور پر مذکور ہوا ہے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین صلی اللیل کم از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، صفحہ 268) حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ ہمارے گھر تشریف لائیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سعد کے ہمراہ ان کے گھر تشریف لے گئے۔حضرت سعد کھجور اور تیل لے آئے پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ کا پیالہ لائے جس میں سے آپ نے پیا۔(سبل الهدى والرشاد جلد 7 صفحه 200 الباب الرابع فى أكلمه الا الله أطعمة مختلفة ، في أكلم الله الكسب والسمسم، دار الكتب العلمية بيروت 1993ء)