خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 667
خطبات مسرور جلد 17 667 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019 کہا جاتا ہے کہ قبیلہ اوس اور خزرج میں ایسا کوئی گھر نہ تھا جس میں چار شخص پے در پے فیاض ہوں۔بڑے کھلے دل کے ہوں سوائے ڈلیم کے ، پھر اس کے بیٹے عبادہ کے ، پھر اس کے بیٹے سعد کے ، پھر اس کے بیٹے قیس کے۔ڈلیم اور اس کے اہل خانہ کی سخاوت کے بارے میں بہت سی اچھی اچھی خبریں مشہور تھیں۔(اسد الغابه جلد 2صفحه 441،سعد بن عباده، دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو سعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روزانہ ایک بڑا پیالہ بھیجتے جس میں گوشت اور شرید، گوشت میں پکے ہوئے روٹی کے ٹکڑے یا دودھ کا ثرید یا سر کے اور زیتون کا ثرید یا چربی کا پیالہ بھیجتے اور زیادہ تر گوشت کا پیالہ ہی ہو تا تھا۔سعد کا پیالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کی ازواج مطہرات کے گھروں میں چکر لگایا کرتا تھا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 461 سعد بن عباده ، دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) یعنی یہ کھانا تھا جو مختلف ازواج کے لیے جایا کرتا تھا۔بعض روایات ایسی بھی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر ایسے دن بھی آتے تھے کہ کھانا نہیں ہو تا تھا۔ہو (صحيح البخارى كتاب الهبة و فضلها۔۔۔باب فضل الهبة حديث 2567) سکتا ہے کہ یہ روزانہ نہیں اکثر بھیجتے ہوں یا شروع میں بھیجتے ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سخاوت کی وجہ سے، غریبوں کے خیال کی وجہ سے بعض اوقات انہیں غرباء میں تقسیم کر دیتے ہوں، مہمانوں کو کھلا دیتے ہوں اس لیے اپنے گھر میں کچھ نہیں ہو تا تھا۔بہر حال ایک روایت اور ہے ، حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت ابوایوب انصاری کے ہاں قیام فرمایا تو آپ کے ہاں کوئی ہدیہ نہیں آیا۔پہلا ہدیہ جو میں آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا تھا وہ ایک پیالہ تھا جس میں گندم کی روٹی کی شرید، گوشت اور دودھ تھا۔میں نے اسے آپ کے سامنے پیش کیا۔میں نے عرض کی یارسول اللہ ا یہ پیالہ میری والدہ نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے۔آپ نے فرمایا اللہ اس میں برکت ڈالے اور آپ نے اپنے صحابہ کو بلایا تو انہوں نے بھی اس میں سے کھایا۔کہتے ہیں میں ابھی دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ سعد بن عبادہ بھی ایک پیالہ لے کر حاضر ہوئے جسے ان کا غلام اپنے سر پر اٹھائے ہوئے تھا۔وہ کافی بڑا تھا۔میں حضرت ابو ایوب کے دروازے پر کھڑا ہو گیا۔میں ا نے اس پیالے کا کپڑا اٹھایا تاکہ میں اسے دیکھوں تو میں نے ثرید دیکھی جس میں ہڈیاں تھیں۔اس غلام نے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔حضرت زید کہتے ہیں کہ ہم بنو مالک بن نجار کے گھروں میں رہتے تھے۔ہم میں سے تین یا چار افراد ہر رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باری باری کھانا لے کر حاضر ہوتے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات ماہ حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر میں قیام فرمایا۔ان ایام میں حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت اسعد بن زرارہ کا پیالہ ہر روز آپ کی خدمت میں آتا تھا اور اس میں کبھی ناغہ نہیں ہوتا تھا۔یہاں کچھ وضاحت بھی ہو گئی کہ شروع میں روزانہ کھانا آتا تھا۔سات مہینے تک باقاعدہ آتا رہا۔اس کے بعد بھی آتا ہو گا لیکن شاید اس با قاعدگی سے نہیں۔