خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 666 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 666

خطبات مسرور جلد 17 666 52 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019ء بمطابق 27/ فتح 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، (سرے) یو کے تشهد و تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گذشتہ خطبے میں حضرت سعد بن عبادہ کا ذکر ہو رہا تھا۔ان کے بارے میں آج مزید کچھ بیان کروں گا۔حضرت سعد بن عبادہ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقعے پر بنائے جانے والے بارہ نقباء میں سے ایک تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 461 سعد بن عباده ، دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) ان کے بارے میں سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں بیان کیا ہے کہ " قبیلہ خزرج کے خاندان بنو ساعدہ سے تھے اور تمام قبیلہ خزرج کے رئیس تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ممتاز ترین انصار میں شمار ہوتے تھے۔حتی کہ آنحضرت کی وفات پر بعض انصار نے انہی کو خلافت کے لیے پیش کیا تھا۔" یعنی انصار میں سے جو نام پیش ہو اتھا وہ ان کا نام تھا۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فوت ہوئے۔" (سیرت خاتم النبیین صلی مینیم از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 230) " حضرت سعد بن عبادہ، منذر بن عمرو اور ابو دجانہ ، یہ تین اشخاص تھے انہوں نے جب اسلام قبول کیا تو ان سب نے اپنے قبیلہ بنو ساعدہ کے بت توڑ ڈالے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3صفحه 461 سعد بن عباده ، دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) ہجرت مدینہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بنو ساعدہ کے گھروں کے پاس سے گزرے تو حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت مُنذر بن عمر و اور حضرت ابو دجانہ نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! آپ ہمارے پاس تشریف لائیں۔ہمارے پاس عزت ہے۔دولت، قوت اور مضبوطی ہے۔حضرت سعد بن عبادہ نے یہ بھی عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میری قوم میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کے کھجوروں کے باغات مجھ سے زیادہ ہوں اور اس کے کنویں مجھ سے زیادہ ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ دولت، قوت اور کثیر تعداد بھی ہو۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ثابت ! اس اونٹنی کا راستہ چھوڑ دو، یہ مامور ہے۔(سبل الهدى والرشاد جلد 3 صفحه 272 الباب السادس في قدومها الله باطن المدينة۔۔۔۔۔۔، دار الكتب العلمية بيروت 1993ء) یہ اپنی مرضی سے کہیں جائے گی۔حضرت سعد بن عبادہ قبیلہ بنو ساعدہ کے نقیب تھے جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا کہ جو نقیب مقرر کیے گئے تھے ان میں ان کا بھی نام تھا۔