خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 665
خطبات مسرور جلد 17 665 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2019 ہی رہے تھے کہ گھائی کے اوپر سے رات کی تاریکی میں کسی شیطان کی آواز آئی یعنی کوئی شخص چھپا تھا، جاسوسی کر رہا تھا کہ اے قریش! تمہیں بھی کچھ خبر ہے کہ یہاں (نعوذ باللہ ) منظم اور اس کے ساتھ کے مرتدین تمہارے خلاف کیا عہد و پیمان کر رہے ہیں ؟ اس آواز نے سب کو چونکا دیا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بالکل مطمئن رہے اور فرمایا کہ اب آپ لوگ جس طرح آئے تھے اسی طرح ایک ایک دو دو ہو کر اپنی قیام گاہوں میں واپس چلے جاؤ۔عباس بن نَضْله انصاری نے کہا۔یارسول اللہ ! ہمیں کسی کاڈر نہیں ہے۔اگر حکم ہو تو ہم آج صبح ہی ان قریش پر حملہ کر کے انہیں ان کے مظالم کا مزہ چکھادیں۔آپ نے فرمایا نہیں نہیں مجھے ابھی تک اس کی اجازت نہیں ہے۔بس تم صرف یہ کرو کہ خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے خیموں میں واپس چلے جاؤ۔جس پر تمام لوگ ایک ایک دو دو کر کے دبے پاؤں گھائی سے نکل گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے چچا عباس کے ساتھ مکہ واپس تشریف لے آئے۔قریش کے کانوں میں چونکہ بھنک پڑ چکی تھی کہ اس طرح کوئی خفیہ اجتماع ہوا ہے۔وہ صبح ہوتے ہی اہل یثرب کے ڈیرہ میں گئے اور ان سے کہا کہ آپ کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں اور ہم ہر گز نہیں چاہتے کہ ان تعلقات کو خراب کریں مگر ہم نے سنا ہے کہ گذشتہ رات محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ آپ کا کوئی خفیہ معاہدہ یا سمجھوتہ ہوا ہے۔یہ کیا معاملہ ہے ؟ اوس اور خزرج میں سے جو لوگ بت پرست تھے ان کو چونکہ اس واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں تھی وہ سخت حیران ہوئے اور صاف انکار کیا کہ قطعا کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔عبد اللہ بن اُبی بن سلول بھی جو بعد میں منافقین مدینہ کا سردار بناوہ بھی اس گروہ میں تھا۔اس نے کہا کہ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔بھلا یہ ممکن ہے کہ اہل یثرب کوئی اہم معاملہ طے کریں اور مجھے اس کی اطلاع نہ ہو ؟ غرض اس طرح قریش کا شک رفع ہوا اور وہ واپس چلے آئے اور اس کے تھوڑی دیر بعد ہی انصار بھی واپس بیٹرب کی طرف کوچ کر گئے لیکن ان کے کوچ کر جانے کے بعد قریش کو کسی طرح اس خبر کی تصدیق ہو گئی کہ واقعی اہل یثرب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی عہد و پیمان کیا ہے جس پر ان میں سے بعض آدمیوں نے اہل میٹرب کا پیچھا کیا۔قافلہ تو نکل گیا تھا مگر سعد بن عبادہ کسی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے ان کو یہ لوگ پکڑ لائے اور مکہ کے پتھر یلیے میدان میں لا کر خوب زدو کوب کیا اور سر کے بالوں سے پکڑ کر ادھر ادھر گھسیٹا۔آخر جبیر بن مطعم اور حارث بن حزب کو جو سعد کے واقف تھے انہیں اطلاع ہوئی تو انہوں نے ان کو ظالم قریش کے ہاتھ سے چھڑایا۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین صفحہ 227 تا 232،229-233) حضرت سعد بن عبادہ کے تعلق سے ابھی کچھ اور ذکر بھی ہے ان شاء اللہ آئندہ خطبہ میں بیان ہو گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 10 جنوری 2020ء جلد 27 شمارہ 03 صفحہ 05 تا 08)