خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 664
خطبات مسرور جلد 17 664 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2019 انہوں نے کہا کہ عباس ہم نے تمہاری بات سن لی ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ رسول اللہ خود بھی اپنی زبانِ مبارک سے کچھ فرمائیں اور جو ذمہ داری ہم پر ڈالنا چاہتے ہیں وہ بیان فرمائیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن شریف کی چند آیات تلاوت فرمائیں اور پھر ایک مختصر سی تقریر میں اسلام کی تعلیم بیان فرمائی اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنے لیے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ جس طرح تم اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح اگر ضرورت پیش آئے تو میرے ساتھ بھی معاملہ کرو۔جب آپ تقریر ختم کر چکے تو البراء بن مغرور نے عرب کے دستور کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا یارسول اللہ ! ہمیں اس خدا کی قسم ہے جس نے آپ کو حق و صداقت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ہم اپنی جانوں کی طرح آپ کی حفاظت کریں گے۔ہم لوگ تلواروں کے سایہ میں پہلے ہیں۔مگر ابھی وہ بات ختم نہیں کر پائے تھے کہ ابو الْهَيْقم بن تیہان نے ان کی بات کاٹ کر کہا کہ یارسول اللہ ! یثرب کے یہود کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں۔آپ کا ساتھ دینے سے وہ منقطع ہو جائیں گے۔ایسانہ ہو کہ جب اللہ آپ کو غلبہ دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنے وطن میں واپس تشریف لے آئیں اور ہم نہ ادھر کے رہیں نہ اُدھر کے۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہنس پڑے اور آپ نے ہنس کے فرمایا نہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔تمہارا خون میرا خون ہو گا۔تمہارے دوست میرے دوست ہوں گے۔تمہارے دشمن میرے دشمن ہوں گے۔اس پر عباس بن عبادہ انصاری نے اپنے ساتھیوں پر نظر ڈال کر کہا۔لو گو کیا تم سمجھتے ہو کہ اس عہد و پیمان کے کیا معنے ہیں ؟ اس کا یہ مطلب ہے کہ اب تمہیں ہر اسود و احمر کے مقابلہ کے لیے تیار ہونا چاہیے یعنی ہر قوم کے لوگ جو ہیں تمہارے خلاف ہو جائیں گے ان کے مقابلے کے لیے تیار ہونا چاہیے اور ہر قربانی کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔لوگوں نے کہا کہ ہاں ہم جانتے ہیں مگر یار سول اللہ ! اس کے بدلہ میں ہمیں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں خدا کی جنت ملے گی جو اس کے سارے انعاموں میں سے بڑا انعام ہے۔سب نے کہا کہ ہمیں یہ سودا منظور ہے۔یارسول اللہ ! اپنا ہاتھ آگے کریں۔آپ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھا دیا اور یہ ستر جاں شاروں کی جماعت ایک دفاعی معاہدہ میں آپ کے ہاتھ پر بک گئی۔اس بیعت کا نام بیعت عقبہ ثانیہ ہے۔جب یہ بیعت ہو چکی تو آپ نے ان سے فرمایا کہ موسیٰ نے اپنی قوم میں سے بارہ نقیب چنے تھے جو موسیٰ کی طرف سے ان کے نگر ان اور محافظ تھے۔میں بھی تم میں سے بارہ نقیب مقرر کرنا چاہتا ہوں جو تمہارے نگران اور محافظ ہوں گے اور وہ میرے لیے عیسی کے حواریوں کی طرح ہوں گے اور میرے سامنے اپنی قوم کے متعلق جواب دہ ہوں گے۔پس تم مناسب لوگوں کے نام تجویز کر کے میرے سامنے پیش کرو۔چنانچہ بارہ آدمی تجویز کیے گئے جنہیں آپ نے منظور فرما یا اور انہیں ایک ایک قبیلے کا نگران مقرر کر کے ان کے فرائض سمجھا دیے اور بعض قبائل کے لیے آپ نے دو دو نقیب مقرر فرمائے۔جب نقیبوں کا تقرر ہو چکا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چاعباس بن عبد المطلب نے انصار سے تاکید کی کہ انہیں بڑی ہوشیاری اور احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ قریش کے جاسوس سب طرف ر نظر لگائے بیٹھے ہیں ایسا نہ ہو کہ اس قول و اقرار کی خبر نکل جائے اور مشکلات پید اہو جائیں۔ابھی غالباً وہ یہ تاکید کر