خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 663 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 663

خطبات مسرور جلد 17 663 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2019 ملنے کے لیے مکہ آئے تھے۔مصعب بن عمیر بھی ان کے ساتھ تھے۔مُضعَت کی ماں زندہ تھی اور گو مشرکہ تھی مگر ان سے بہت محبت کرتی تھی۔جب اسے ان کے آنے کی خبر ملی تو اس نے ان کو کہلا بھیجا کہ پہلے مجھ سے آکر مل جاؤ۔پھر کہیں دوسری جگہ جانا۔مُضعَب نے جواب دیا، اپنی ماں کو کہا کہ میں ابھی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ملا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر پھر آپ کے پاس آؤں گا۔چنانچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔آپ سے مل کر اور ضروری حالات عرض کر کے پھر اپنی ماں کے پاس گئے۔ماں ان کی یہ بات کہ پہلے مجھے نہیں ملے سن کے بڑی جلی بھی بیٹھی تھی۔ان کو دیکھ کر بہت روئی اور بڑا شکوہ کیا۔مُضعَب نے کہا کہ ماں میں تم سے ایک بڑی اچھی بات کہتا ہوں جو تمہارے واسطے بہت ہی مفید ہے اور سارے جھگڑوں کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔اس نے کہا وہ کیا؟ مُصْعَب کہنے لگے، بڑی آہستہ سے جواب دیا کہ بس یہی کہ بت پرستی ترک کر کے مسلمان ہو جاؤ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ۔وہ پکی مشرکہ تھی۔سنتے ہی شور مچادیا کہ مجھے ستاروں کی قسم ہے۔میں تمہارے دین میں کبھی داخل نہ ہوں گی اور اپنے رشتہ داروں کو اشارہ کیا کہ مصعب کو پکڑ کر قید کر لیں مگر وہ ہوشیار تھے جلدی سے بھاگ کر نکل گئے۔بیعت عقبہ ثانیہ کے تعلق میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مُضعَب سے انصار کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی اور ان میں سے بعض لوگ آپ سے انفرادی طور پر ملاقات بھی کر چکے تھے مگر چونکہ اس موقع پر ایک اجتماعی اور خلوت کی ملاقات، علیحدہ ملاقات کی ضرورت تھی اس لیے مراسم حج کے بعد ماہ ذی الحجہ کی وسطی تاریخ مقرر کی گئی کہ اس دن نصف شب کے قریب یہ سب لوگ گذشتہ سال والی گھاٹی میں آپ کو آکر ملیں تاکہ اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ علیحدگی میں بات چیت ہو سکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو تاکید فرمائی کہ اکٹھے نہ آئیں بلکہ ایک ایک کر کے ، دو دو کر کے وقتِ مقررہ پر گھاٹی میں پہنچ جائیں اور سوتے کو نہ جگائیں اور نہ غیر حاضر کا انتظار کریں۔جو موجود ہیں وہ آجائیں۔چنانچہ جب مقررہ تاریخ آئی تو رات کے وقت جبکہ ایک تہائی رات جاچکی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے گھر سے نکلے اور راستہ میں اپنے چچا عباس کو ساتھ لیا جو ابھی تک مشرک تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے تھے اور خاندان ہاشم کے رئیس تھے اور پھر دونوں مل کر اس گھاٹی میں پہنچے۔ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ انصار بھی ایک ایک دو دو کر کے آپہنچے اور یہ ستر اشخاص تھے اور اوس اور خزرج ، گفتگو دونوں قبیلوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔سب سے پہلے عباس نے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچانے ، شروع کی کہ اے خزرج کے گروہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان میں معزز و محبوب ہے اور وہ خاندان آج تک اس کی حفاظت کا ضامن رہا ہے اور ہر خطرہ کے وقت میں اس کے لیے سینہ سپر ہو ا ہے مگر اب محمد” کا ارادہ اپنا وطن چھوڑ کر تمہارے پاس چلے جانے کا ہے۔سو اگر تم اسے اپنے پاس لے جانے کی خواہش رکھتے ہو تو تمہیں اس کی ہر طرح حفاظت کرنی ہو گی اور ہر دشمن کے ساتھ سینہ سپر ہونا پڑے گا۔اگر تم اس کے لیے تیار ہو تو بہتر ورنہ ابھی سے صاف صاف جواب دے دو کیونکہ صاف صاف بات اچھی ہوتی ہے۔البَراء بن مَعْرُور جو انصار کے قبیلہ کے ایک معمر اور بااثر بزرگ تھے