خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 51 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 51

خطبات مسرور جلد 17 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2019 حضرت قیس اپنی کنیت ابوزید سے زیادہ مشہور تھے۔آپ غزوہ بدر اور غزوہ احد اور غزوہ خندق اور باقی تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔آپ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مجید جمع کیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 389 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 4 صفحه 406 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (اصابه جلد 5 صفحه 362 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انصار میں سے چار اصحاب نے قرآن کریم جمع کیا اور وہ چار اصحاب زيد بن ثابت، مُعاذ بن جبل ابی بن گغب اور ابو زید تھے یعنی قيس بن سکن اور ابو زید کے متعلق حضرت انس کہتے ہیں کہ یہ میرے چاتھے۔(صحيح البخارى كتاب مناقب الانصار باب مناقب زید بن ثابت حدیث 3810) 8 ہجری میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو زید انصاری اور حضرت عمرو بن عاص الشَّهْمِی کو جُلَندِی کے دو بیٹوں عبید اور جیفر کے پاس ایک خط دے کر روانہ کیا جس میں ان کو اسلام کی دعوت دی تھی اور دونوں سے فرمایا کہ اگر وہ لوگ حق کی گواہی دیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں تو عمرو ان کے امیر ہوں گے اور ابو زید اُن کے امام الصلوۃ ہوں گے۔یعنی کہ ان کی دینی حالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں زیادہ اچھی ہو گی یا قرآن کریم کا علم زیادہ تھا۔فرمایا وہ امام الصلوۃ ہوں گے اور ان میں اسلام کی اشاعت کریں گے اور انہیں قرآن اور سنن کی تعلیم دیں گے۔یہ دونوں عمان گئے اور عبید اور جیفر سے سمندر کے کنارے صُحاز میں ملے۔ان کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خط دیا انہوں نے اسلام قبول کیا، دونوں نے اسلام قبول کر لیا پھر انہوں نے وہاں کے عربوں کو اسلام کی دعوت دی وہ بھی اسلام لے آئے۔اب یہ تبلیغ کے ذریعہ سے اسلام پھیل رہا ہے۔وہاں کوئی جنگ، قتل و غارت اور تلوار تو نہیں گئی تھی اور بہر حال ان عربوں نے بھی اسلام کو قبول کیا۔عمرو اور ابو زید عمان ہی میں رہے یہاں تک کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔بعض کے نزدیک ابوزید اس سے پہلے مدینہ آگئے تھے۔(فتوح البلدان صفحه 53 عمان " مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2000ء) حضرت قیس کی شہادت یوم جشر کے موقع پر ہوئی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 389 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں دریائے فرات پر جو پل تیار کیا گیا تھا اسی مناسبت سے اس معرکے کو یوم جسر کہا جاتا ہے۔(معجم البلدان جلد 2 صفحه 162-163 "جسر "مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے ابُو الْيَسَر كَعْب بن عَمْرو۔ان کی کنیت ابوانیسر تھی اور ابوا لیسر کا تعلق قبیلہ بنو سلمہ سے تھا۔والد ان کے عَمْرو بن عباد تھے۔والدہ کا نام نسیبه بنتِ آزھر تھا وہ قبیلہ سلمہ سے ہی تھیں۔آپ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے اور غزوہ بدر میں بھی شرکت کی۔غزوہ بدر کے روز آپ نے