خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 662
خطبات مسرور جلد 17 662 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2019 حضرت سعد بن عبادہ زمانہ جاہلیت میں عربی لکھنا جانتے تھے حالانکہ اس وقت کتابت کم لوگ جانتے تھے۔وہ تیر ا کی اور تیر اندازی میں بھی مہارت رکھتے تھے اور ان چیزوں میں جو شخص مہارت رکھتا تھا اس کو کامل کہا جاتا تھا۔زمانہ جاہلیت میں حضرت سعد بن عبادہ اور ان سے قبل ان کے آباؤ اجداد اپنے قلعہ پر اعلان کروایا کرتے تھے کہ جس کو گوشت اور چربی پسند ہو تو وہ دلیم بن حَارِثہ کے قلعہ میں آجائے۔ھشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ میں نے سعد بن عبادہ کو اس وقت پایا جب وہ اپنے قلعہ پر آواز دیا کرتے تھے کہ جو شخص چربی یا گوشت پسند کرتا ہے وہ سعد بن عبادہ کے پاس آئے یعنی جانوروں کا گوشت ذبح کروا کے تقسیم کرتے تھے۔میں نے ان کے بیٹے کو بھی اسی حالت میں پایا کہ وہ بھی اسی طرح دعوت دیتا تھا۔کہتے ہیں کہ میں مدینہ کے راستے پر چل رہا تھا۔اس وقت میں جوان تھا۔حضرت عبد اللہ بن عمر میرے ساتھ سے گزر رہے تھے ، ھشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔کہتے ہیں اس وقت میں جوان تھا اور حضرت عبد اللہ بن عمر میرے پاس سے گزرے جو عالیہ مقام جو مدینہ سے مجد کی طرف چار سے آٹھ میل کے درمیان واقع ایک وادی ہے ، وہاں اپنی زمین کی طرف جارہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اے جو ان ! ادھر آؤ۔عبد اللہ بن عمر نے ان کے والد کو بلایا۔انہوں نے کہا کہ اے جو ان !دیکھو ! آیا تمہیں سعد بن عبادہ کے قلعہ پر کوئی آواز دیتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔قلعہ قریب تھا۔میں نے دیکھا اور کہا نہیں۔انہوں نے کہا تم نے سچ کہا۔الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 461460 سعد بن عُباده ، دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (عمدة القاری جلد 16 صفحه 279 كتاب فضائل الصحابه دار احياء التراث العربي بيروت 2003ء) لگتا ہے کہ جتنا گھلا ہاتھ حضرت سعد بن عبادہ کا تھا اور جس طرح وہ تقسیم کیا کرتے تھے اس کے بعد وہ کام جاری نہیں رہا۔اس لیے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ان سے یہ پوچھا۔حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ حضرت سعد بن عبادہ کے قلعہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے مجھے کہا کہ اے نافع ! یہ ان کے آباؤ اجداد کے گھر ہیں۔سال میں ایک دن منادی کرنے والا یہ آواز دیتا کہ جو چربی اور گوشت کھانے کا خواہش مند ہے وہ ڈلیم کے گھر آجائے پھر ڈلیم فوت ہو گیا تو عبادہ ایسے اعلان کرنے لگے۔جب عبادہ فوت ہو گئے تو حضرت سعد ایسے اعلان کرنے لگے۔پھر میں نے قیس بن سعد کو ایسا کرتے دیکھا اور قیس حد سے زیادہ سخاوت کرنے والے لوگوں میں سے تھا۔الاستيعاب في معرفة الاصحاب المجلد الثانى صفحه 595 سعد بن عُباده، دار الجيل بيروت 1992ء) پس اس روایت سے مزید وضاحت ہو گئی کہ ان کی اولاد تک یہ سلسلہ جاری رہا۔اس کے بعد وہ حالت نہیں رہی۔حضرت سعد بن عبادہ نے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقعے پر اسلام قبول کیا تھا۔(سير الصحابه جلد 3 صفحه 375 دار الاشاعت کراچی 2004ء) سیرت خاتم النبیین میں اس کے حالات اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ 13 نبوی کے ماہ ذو الحجہ میں حج کے موقع پر اوس اور خزرج کے کئی آدمی مکہ میں آئے۔ان میں ستر شخص ایسے شامل تھے جو یا تو مسلمان ہو چکے تھے اور یا مسلمان ہونا چاہتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے