خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 661
خطبات مسرور جلد 17 661 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2019 کر لیے۔یہ حالت تھی ہماری کہ پوری طرح ڈھانکنے کے لیے چادر بھی نہیں تھی۔آدھے کا میں نے اپنے جسم کو لپیٹنے کے لیے ازار بنالیا اور آدھے کا سعد نے۔آپ نے فرمایا لیکن آج ہم میں سے کوئی صبح کرتا ہے تو کسی شہر کا امیر ہوتا ہے اور میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے نفس میں بڑا سمجھوں اور اللہ کے نزدیک بہت چھوٹا ہوں۔اس لیے آپ نے فرمایا کہ میری تو عاجزی کی یہ حالت ہے کہ میں اپنے آپ کو بہت چھوٹا سمجھتا ہوں۔حالات اب تبدیل ہو گئے ہیں۔کشائش پید اہو گئی ہے اور اب تم لوگوں کو بہت زیادہ فکر کرنی چاہیے۔پھر فرمایا کوئی نبوت ماضی میں ایسی نہیں ہوئی جس کا اثر زائل نہ ہوا ہو حتی کہ اس کا انجام بادشاہت نہ ہو اور تم حقیقت حال جان لو گے اور حکام کا تمہیں ہمارے بعد تجربہ ہو جائے گا۔(صحیح مسلم کتاب الزهد والرقائق باب الدنيا سجن للمؤمن وجنة للكافر حديث 2967 ) آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں بھی ایسے حالات آجائیں گے کہ دنیا داری پید اہو جائے گی۔اس وقت تم دیکھ لینا کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ صحیح ہے لیکن تم لوگ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ رکھنا، دین کی طرف توجہ رکھنا، روحانیت کی طرف توجہ رکھنا اور اسی سے جنت میں جانے کے سامان پید اہو سکتے ہیں۔اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام حضرت سعد بن عبادہ ہے۔حضرت سعد بن عبادہ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو ساعدہ سے تھا۔ان کے والد کا نام عُبادہ بن دلیم اور والدہ کا نام عمرہ تھا جو کہ مسعود بن قیس کی تیسری بیٹی تھیں۔ان کی والدہ کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت سعد بن عبادہ حضرت سعد بن زید اشهَلی کے خالہ زاد بھائی تھے جو کہ اہل بدر میں سے تھے۔حضرت سعد نے دو شادیاں کی تھیں۔غریہ بنتِ سعد جس سے سعید، محمد اور عبد الرحمن پید ا ہوئے اور دوسری فكية بنت عبید جس سے قیس، امامہ اور شدوس کی پیدائش ہوئی۔الطبقات الكبرى لا بن سعد الجزء الثالث صفحه 460-461 ، سعد بن عباده، دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) مندوس بنت عُبادہ حضرت سعد بن عبادہ کی بہن تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر کے اسلام قبول کیا تھا۔حضرت سعد بن عبادہ کی ایک اور بہن بھی تھیں جن کا نام لیلیٰ بنت عُبادہ تھا۔انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر کے اسلام قبول کیا تھا۔(الطبقات الكبرى جلد 8 صفحه 277 ، ومن بني ساعدة ابن كعب بن الخزرج، مَنْدُوْس بِنْتِ عُبَادَهُ، لَيْلى بِنْتِ عُبَادَة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت سعد بن عبادہ کی کنیت ابو ثابت تھی۔بعض نے ان کی کنیت ابو قیس بھی بیان کی ہے جبکہ پہلا قول درست اور صحیح لگتا ہے یعنی ابوثابت۔حضرت سعد بن عبادہ انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو ساعدہ کے نقیب تھے۔حضرت سعد بن عبادہ سردار اور سخی تھے اور تمام غزوات میں انصار کا جھنڈا ان کے پاس رہا۔حضرت سعد بن عبادہ انصار میں صاحب وجاہت اور ریاست تھے۔ان کی سرداری کو ان کی قوم تسلیم کرتی تھی۔(اسد الغابه فى معرفة الصحابه المجلد الثانى صفحه 441 سعد بن عُباده، دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2003ء)