خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 660
660 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20دسمبر 2019 خطبات مسرور جلد 17 بعد میں لوگوں نے وہاں پکے مکان بنانے شروع کیے۔حضرت عتبہ نے منجن بن آذرغ کو حکم دیا جس نے بصرہ کی جامع مسجد کی بنیاد ڈالی اور اسے بانسوں سے تیار کیا۔اس کے بعد حضرت عشبہ حج کرنے کے لیے نکلے اور مجاشع بن مسعود کو جانشین بنایا، اپنا قائم مقام بنایا اور اسے فرات کی طرف کوچ کا حکم دیا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کو حکم دیا کہ وہ نماز کی امامت کیا کریں۔جب حضرت عشبہ حضرت عمر کے پاس پہنچے تو انہوں نے بصرہ کی ولایت سے استعفی دینا چاہا۔کہہ دیا کہ اب میرے لیے بڑا مشکل ہے کسی اور کو وہاں کا امیر مقرر کر دیں۔تاہم حضرت عمرؓ نے ان کا استعفی منظور نہیں کی۔روایت میں آتا ہے کہ اس پر انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! مجھے اب اس شہر کی طرف دوبارہ نہ لوٹانا۔چنانچہ وہ اپنی سواری سے گر پڑے اور 17 / ہجری میں ان کا انتقال ہو گیا۔یہ اُس وقت ہوا جبکہ حضرت عشبہ مکہ سے بصرہ کی طرف جا رہے تھے اور اس مقام پر پہنچ گئے تھے جس کو لوگ مَعْدِن بَنِی سُلیم کہتے ہیں۔ایک دوسرے قول کے مطابق 17 / ہجری میں ربذہ مقام پر ان کا انتقال ہوا تھا اور ایک تیسر ا قول بھی ہے۔ان کی وفات کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں کہ 117 ہجری میں ستاون سال کی عمر پا کر بصرہ میں حضرت عتبہ نے وفات پائی تھی۔انہیں پیٹ کی بیماری تھی اور بعض نے ان کی وفات کا سال 15 ہجری بھی بیان کیا ہے۔حضرت عشبہ کی وفات کے بعد ان کا غلام شوید حضرت عقبہ کا سامان اور ترکہ حضرت عمرؓ کے پاس لایا۔حضرت عتبہ ٹیم نے ستاون برس کی عمر پائی۔وہ دراز قد اور خوب صورت تھے۔(اسد الغابه فى معرفة الصحابة جلد 3 صفحه 59-560 عُتبه بن غزوان دار الكتب العلمية بيروت 2003ء) (کتاب جمل من انساب الاشراف جزء 13 نسب بني مازن بن منصور صفحه 298 وحاشيه، دار الفكر بيروت 1996ء) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 73 عُثبه بن غزوان دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) خالد بن عمیر عدوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن غزوان نے ہمیں خطاب کیا۔انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کی۔پھر کہا اما بعد دنیا نے اپنے ختم ہونے کا اعلان کر دیا ہے اور اس نے تیزی سے پیٹھ پھیر لی ہے یعنی دنیا اب قیامت کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس میں کچھ بھی باقی نہ رہا سوائے اس کے کہ جتنا بر تن میں کچھ مشروب بچ رہتا ہے جسے اس کا پینے والا چھوڑ دیتا ہے۔تم یہاں سے ایک لازوال گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو یعنی یہ زندگی عارضی ہے۔پس جو تمہارے پاس ہے اس سے بہتر میں منتقل ہو جاؤ کیونکہ ہمارے پاس ذکر کیا گیا ہے کہ ایک پتھر جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے گا پھر وہ ستر برس تک اس میں گرتا جائے گا اور اس کی تہ تک نہ پہنچ پائے گا اور اللہ کی قسم ! اس دوزخ کو ضرور بھرا جائے گا۔یعنی کہ گناہ گاروں کو ایسی جہنم میں پھینکا جائے گا۔اس لیے موقع ہے اس زندگی سے فائدہ اٹھاؤ اور نیکیوں کی طرف توجہ دو۔یہ مقصد تھا آپ کا۔پھر فرمایا کیا تم تعجب کرتے ہو ؟ اور تمہیں بتایا گیا کہ جنت کے دو کواڑوں میں سے ایک کو اڑ سے دوسرے کو اڑ تک چالیس برس کا فاصلہ ہے اور ضرور اس پر ایک ایسادن آئے گا کہ وہ لوگوں کی کثرت سے بھر جائے گی۔میں نے اپنے تئیں دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات میں سے ایک تھا اور کبھی درختوں کے پتوں کے سوا ہمارا کوئی کھانا نہیں تھا یعنی وہ زمانہ ہم پر آیا تھا کہ جب ہماری بہت بری حالت تھی۔درختوں کے پتے ہم کھایا کرتے تھے۔یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں۔پھر آپ کہتے ہیں اپنا واقعہ سنا رہے ہیں کہ مجھے ایک چادر ملی اور اسے پھاڑ کر اپنے اور سعد بن مالک کے لیے دو ٹکڑے