خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 659
خطبات مسرور جلد 17 659 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2019 حضرت عقبہ بن غزوان کے دو آزاد کردہ غلاموں خباب اور سعد کو بھی ان کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 2 صفحه 439 خباب مولى عُثبه بن غزوان دار الجيل بيروت 1992ء) (الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 2 صفحه 612 سعدمولى عُتبه بن غزوان دار الجيل بيروت 1992ء) حضرت عتبہ بن غزوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماہر تیر اندازوں میں سے تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 72 من حلفاء بني نوفل بن عبد مناف بن قصى دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) حضرت عمرؓ نے حضرت عقبہ کو ارض بصرہ کی سرزمین کی طرف روانہ فرمایا تاکہ وہ اللہ مقام کے لوگوں سے لڑیں جو فارس سے ہیں۔روانہ کرتے ہوئے حضرت عمرؓ نے انہیں فرمایا کہ تم اور تمہارے ساتھی چلتے جاؤ یہاں تک کہ سلطنتِ عرب کی انتہا اور مملکت عجم کی ابتد ا تک پہنچ جاؤ۔پس تم اللہ کی برکت اور بھلائی کے ساتھ چلو۔جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہنا اور جان لو کہ تم سخت دشمنوں کے پاس جارہے ہو۔پھر آپ نے فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اور میں نے حضرت علاء بن حضرمی کو لکھ دیا ہے کہ عَرْفَجَهُ مِنْ هَرْثَمَة کے ذریعہ تمہاری مدد کرے کیونکہ وہ دشمن سے لڑنے میں بڑا تجربہ کار اور فن حرب سے خوب واقف ہے۔پھر حضرت عمر نے فرمایا پس تم اس سے مشورہ لینا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا۔جو شخص تمہاری بات مان لے اس کا اسلام قبول کرنا اور جو شخص نہ مانے اس پر جزیہ مقرر کرنا جس کو وہ خود اپنے ہاتھ سے عاجزی کے ساتھ ادا کرے اور جو اس کو بھی نہ مانے تو تلوار سے کام لینا یعنی اپنے مذہب میں رہ کر وہاں رہنا۔چاہے پھر وہ جزیہ دینے کو بھی نہ تیار ہو ، مسلمان بھی نہ ہو اور لڑائی پر بھی آمادہ ہو ، تو پھر آپ نے فرمایا کہ پھر تلوار سے کام لینا۔پھر تمہارا بھی کام ہے کہ تلوار سے کام لو۔عربوں میں سے جن کے پاس سے گزرو انہیں جہاد کی ترغیب دینا اور دشمن کے ساتھ ہوشیاری سے برتاؤ کرنا اور اللہ سے ڈرتے رہنا جو تمہارارت ہے۔حضرت عمرؓ نے حضرت غشبہ کو بصرہ کی طرف آٹھ سو آدمیوں کے ساتھ روانہ فرمایا تھا۔بعد میں مزید مدد بھی پہنچائی۔حضرت عقبہ نے ابلہ مقام کو فتح کیا اور اس جگہ بصرہ شہر کی حد بندی کی۔آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے بصرہ کو شہر بنایا اور اسے آباد کیا۔حضرت عمر بن خطاب نے جب حضرت عتبہ بن غزوان کو بصرہ پر والی مقرر فرمایا تو خَرِيبه مقام پر وہ ٹھہرے تھے۔خَرِيْبَہ فارس کا ایک پرانا شہر تھا جسے فارسی میں وَهْشَتَابَاذُ ارْدْشِیر کہتے تھے۔عربوں نے اسے خریبہ کا نام دیا۔اس کے پاس جنگ جمل بھی ہوئی تھی۔حضرت عقبہ نے حضرت عمرؓ کے نام خط میں لکھا کہ مسلمانوں کے لیے ایک ایسی جگہ ناگزیر ہے جہاں وہ سردیوں کا موسم گزار سکیں اور جنگوں سے واپسی پر ٹھہر سکیں۔حضرت عمر نے انہیں لکھا کہ انہیں ایک ایسی جگہ جمع کرو جہاں پانی اور چراگاہ قریب ہو۔اگر یہ منصوبہ ہے تو جگہ ایسی ہونی چاہیے جہاں پانی بھی موجود ہو اور جانوروں کے لیے چراگاہ بھی ہو۔اس پر حضرت علشبہ نے انہیں بصرہ میں جا ٹھہرایا۔مسلمانوں نے وہاں بانس سے مکان تعمیر کیے۔حضرت عتبہ نے بانس سے مسجد تعمیر کروائی۔یہ 14 ہجری کا واقعہ ہے۔حضرت علشبہ نے مسجد کے قریب ہی کھلی جگہ پر امیر کا گھر بنوایا۔لوگ جب جنگ کے لیے نکلتے تو ان بانس سے بنے گھروں کو اکھاڑتے اور باندھ کر رکھ جاتے اور جب واپس آتے تو اسی طرح دوبارہ گھر بناتے۔