خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 658 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 658

خطبات مسرور جلد 17 658 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2019 اے مشرکو ! تم لوگ کر رہے ہو یہ سب باتیں خدا کے نزدیک شهر حرام میں لڑنے کی نسبت بھی زیادہ بری ہیں اور یقینا شھر حرام میں ملک کے اندر فتنہ پیدا کرنا اس قتل سے بد تر ہے جو فتنہ کو روکنے کے لیے کیا جاوے اور اے مسلمانو ! کفار کا تو یہ حال ہے کہ وہ تمہاری عداوت میں اتنے اندھے ہو رہے ہیں کہ کسی وقت اور کسی جگہ بھی وہ تمہارے ساتھ لڑنے سے باز نہیں آئیں گے اور وہ اپنی یہ لڑائی جاری رکھیں گے حتی کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں بشر طیکہ وہ اس کی طاقت پائیں۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اسلام کے خلاف رؤسائے قریش اپنے خونی پر اپیگینڈے کو اَشْهُرِ حُرُم میں بھی برابر جاری رکھتے تھے بلکہ اشہرِ حُرُم کے اجتماعوں اور سفروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ان مہینوں میں اپنی مفسدانہ کارروائیوں میں اور بھی زیادہ تیز ہو جاتے تھے اور پھر کمال بے حیائی سے اپنے دل کو جھوٹی تسلی دینے کے لیے وہ عزت کے مہینوں کو اپنی جگہ سے اِدھر اُدھر منتقل بھی کر دیا کرتے تھے جسے وہ نینی ء کے نام سے پکارتے تھے اور پھر آگے چل کر تو انہوں نے غضب ہی کر دیا کہ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں باوجود پختہ عہد و پیمان کے کفارِ مکہ اور ان کے ساتھیوں نے حرم کے علاقہ میں مسلمانوں کے ایک حلیف قبیلہ کے خلاف تلوار چلائی اور پھر جب مسلمان اس قبیلہ کی حمایت میں نکلے تو ان کے خلاف بھی عین حرم میں تلوار استعمال کی۔پس اللہ تعالیٰ کے اس جواب سے یعنی جو قرآن کریم کی آیت ہے اس سے مسلمانوں کی تو تسلی ہونی ہی تھی قریش بھی کچھ ٹھنڈے پڑ گئے اور اس دوران میں ان کے آدمی بھی اپنے دو قیدیوں کو چھڑانے کے لیے مدینہ پہنچ گئے لیکن چونکہ ابھی تک سعد بن ابی وقاص اور عقبہ بن غزوان واپس نہیں آئے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے متعلق خدشہ تھا کہ اگر وہ قریش کے ہاتھ پڑ گئے تو قریش انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی واپسی تک قیدیوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میرے آدمی بخیریت مدینہ پہنچ جائیں گے تو پھر میں تمہارے آدمیوں کو چھوڑ دوں گا۔چنانچہ جب وہ دونوں واپس پہنچ گئے تو آپ نے فدیہ لے کر دونوں قیدیوں کو چھوڑ دیا لیکن ان قیدیوں میں سے ایک شخص پر مدینہ کے قیام کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ اور اسلامی تعلیم کی صداقت کا اس قدر گہرا اثر ہو چکا تھا کہ اس نے آزاد ہو کر بھی واپس جانے سے انکار کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا۔اسلام لے آیا اور بالآخر بئر معونہ میں شہید ہوا۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبيين تصفحہ 330 تا334) پس مار گولیس جو معترض ہے اس کے اعتراض کا جواب دینے کے لیے ان کا اسلام لانا اور پھر اسلام کی خاطر قربانی دینا یہی کافی ہے لیکن بہر حال ان چیزوں کو یہ لوگ نظر انداز کر جاتے ہیں۔حضرت عتبہ بن غزوان کو غزوہ بدر اور بعد کے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔(اسد الغابه فى معرفة الصحابة جلد 3 صفحه 559 عُتبه بن غزوان دار الكتب العلمية بيروت 2003ء)