خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 657
خطبات مسرور جلد 17 657 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2019 وادی عین حرم کے علاقہ کی حد پر واقع تھی اور یہ ظاہر تھا کہ اگر آج ہی کوئی فیصلہ نہ ہوا تو کل کو یہ قافلہ حرم کے علاقہ میں داخل ہو جائے گا جس کی حرمت یقینی ہو گی۔غرض ان سب باتوں کو سوچ کر مسلمانوں نے آخر یہی فیصلہ کیا کہ قافلہ پر حملہ کر کے یا تو قافلہ والوں کو قید کر لیا جائے اور یا مار دیا جائے۔بہر حال انہوں نے حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں کفار کا ایک آدمی مارا گیا اور دو آدمی قید ہو گئے۔چوتھا آدمی بھاگ کر نکل گیا اور مسلمان اسے پکڑ نہ سکے اور اس طرح ان کی تجویز کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئی۔اس کے بعد مسلمانوں نے قافلہ کے سامان پر قبضہ کر لیا اور چونکہ قریش کا ایک آدمی بچ کر نکل گیا تھا اور یقین تھا کہ اس لڑائی کی خبر جلدی مکہ پہنچ جائے گی تو عبد اللہ بن جحش اور ان کے ساتھی سامانِ غنیمت لے کر جلد جلد مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔اس موقع پر مار گولیس صاحب لکھتے ہیں کہ دراصل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ دستہ دیدہ دانستہ اس نیت سے شہرِ حرام میں بھیجا تھا کہ چونکہ اس مہینہ میں قریش طبعاً غافل ہوں گے ، مسلمانوں کو ان کے قافلہ کے لوٹنے کا آسان اور یقینی موقع مل جائے گا لیکن ہر عقل مند انسان سمجھ سکتا ہے کہ ایسی مختصر پارٹی کو اتنے دور دراز علاقہ میں کسی قافلہ کی غارت گری کے لیے نہیں بھیجا جا سکتا خصوصاً جبکہ دشمن کا ہیڈ کوارٹر اتنا قریب ہو اور پھر یہ بات تاریخ سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ یہ پارٹی محض خبر رسانی کی غرض سے بھیجی گئی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب علم ہوا کہ صحابہ نے قافلہ پر حملہ کیا تو آپ سخت ناراض ہوئے اور جب یہ جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو سارے حالات سنائے اور ماجرے کی اطلاع دی تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں شہرِ حرام میں لڑنے کی اجازت نہیں دی ہوئی اور آپ نے مالِ غنیمت بھی لینے سے انکار کر دیا۔اس پر عبد اللہ اور ان کے ساتھی سخت نادم اور پشیمان ہوئے۔اور انہوں نے خیال کیا کہ بس اب ہم خدا اور اس کے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔صحابہ نے بھی ان کو سخت ملامت کی کہ تم نے کیا کیا۔دوسری طرف قریش نے بھی شور مچایا کہ مسلمانوں نے شہر حرام کی حرمت کو توڑ دیا ہے اور چونکہ جو شخص مارا گیا تھا یعنی عمرو بن الحضرمی وہ ایک رئیس آدمی تھا اور پھر وہ عتبہ بن ربیعہ رئیس مکہ کا حلیف بھی تھا اس لیے بھی اس واقعہ نے قریش کی آتش غضب کو بہت بھڑ کا دیا اور انہوں نے آگے سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔الغرض اس واقعہ پر مسلمانوں اور کفار ہر دو میں بہت چہ میگوئیاں ہوئیں اور بالآخر قرآن کریم کی یہ آیت وحی ہوئی ، نازل ہوئی۔اور اس کی وجہ سے پھر مسلمانوں کی تسلی اور تشفی بھی ہوئی کہ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ قُلْ قِتَالُ فِيْهِ كَبِيرُ - وَصَلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ وَ كُفْرُ بِهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا۔(البقرة: 218) یعنی لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ شہرِ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ تو ان کو جواب دے کہ بے شک شهر حرام میں لڑنا بہت بری بات ہے لیکن شہرِ حرام میں خدا کے دین سے لوگوں کو جبر أروکنا بلکہ شہرِ حرام اور مسجد حرام دونوں کا کفر کرنا یعنی ان کی حرمت کو توڑنا اور پھر حرم کے علاقہ سے اس کے رہنے والوں کو بزور نکالنا جیسا کہ