خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 656 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 656

خطبات مسرور جلد 17 656 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2019 سے کسی کو کچھ تامل ہو، اعتراض ہو ، متامل ہوں اور اگر واپس آنا چاہے تو واپس آسکتے ہیں کوئی پابندی نہیں ہے۔بہر حال آپ نے فرمایا اسے واپس آنے کی اجازت دے دینا۔عبد اللہ نے آپ کی یہ ہدایت اپنے ساتھیوں کو سنادی اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم بخوشی اس خدمت کے لیے حاضر ہیں۔اس کے بعد یہ جماعت نخلہ کی طرف روانہ ہوئی۔راستہ میں سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کا اونٹ کھو گیا اور وہ اس کی تلاش کرتے کرتے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے اور باوجود بہت تلاش کے انہیں نہ مل سکے یعنی اپنے ساتھیوں کو نہ مل سکے اور اب یہ پارٹی جو گئی تھی یہ صرف چھ کس کی رہ گئی۔اس میں صرف چھ افراد رہ گئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک مستشرق ہے مار گولیس اس کے متعلق لکھا ہے کہ اس نے اس موقع پر یہ لکھا کہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ نے جان بوجھ کر اپنا اونٹ چھوڑ دیا تھا اور اس بہانہ سے پیچھے رہ گئے تھے۔آپ لکھتے ہیں کہ ان جاں نثارانِ اسلام پر جن کی زندگی کا ایک ایک واقعہ ان کی شجاعت اور فدائیت پر شاہد ہے اور جن میں سے ایک غزوہ بئر معونہ میں کفار کے ہاتھوں شہید بھی ہوا اور دوسر اکئی خطرناک معرکوں میں نمایاں حصہ لے کر بالآخر عراق کا فاتح بنا، ان کے بارے میں اس قسم کا شبہ محض اپنے من گھڑت خیالات کی بنا پر کرنا مسٹر مار گولیس ہی کا حصہ ہے اور پھر لطف یہ ہے کہ مار گولیس اپنی کتاب میں یہ بھی دعوی کرتا ہے کہ میں نے یہ کتاب ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کر لکھی ہے۔بہر حال یہ تو ان لوگوں کا طریق ہے جہاں بھی اسلام اور مسلمانوں پر اعتراض کا موقع ملے یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔اب اصل واقعہ جو سر یہ کا تھا اس کی طرف آتا ہوں۔یہ مسلمانوں کی چھوٹی سی جماعت تھی، جب نخلہ پہنچی اور اپنے کام یعنی انفار میشن لینے ، اطلاعات لینے میں مصروف ہو گئی کہ کفار مکہ کی موومنٹس (movements) کیا ہیں۔ان کے ارادے کیا ہیں۔مسلمانوں کے بارے میں کوئی حملے کا منصوبہ تو نہیں؟ تو یہ معلومات لینے میں، اپنے کام میں وہ مصروف ہو گئی اور ان میں سے بعض نے اخفائے راز کے خیال سے اپنے سر کے بال بھی منڈوا دیے تاکہ راہ گیر وغیرہ ان کو عمرے کے خیال سے آئے ہوئے لوگ سمجھ کر کسی قسم کا شبہ نہ کریں لیکن ایک دن اچانک وہاں قریش کا ایک چھوٹا سا قافلہ بھی آپہنچا جو طائف سے مکہ کی طرف جارہاتھا اور ہر دو جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے ہو گئیں۔مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خفیہ خفیہ خبر رسانی کے لیے بھیجا تھا، کوئی با قاعدہ حملے کے لیے نہیں بھیجا تھا لیکن دوسری طرف قریش سے جنگ شروع ہو چکی تھی یعنی آمنے سامنے ہو گئے تھے اور دونوں حریف ایک دوسرے کے سامنے تھے اور پھر طبعاً یہ بھی اندیشہ تھا کہ اب جو قریش کے ان قافلہ والوں نے مسلمانوں کو دیکھ لیا ہے تو اس خبر رسانی جس کے لیے بھیجے گئے تھے اس کا راز مخفی نہیں رہ سکتا۔ایک وقت یہ بھی تھی کہ بعض مسلمانوں کو خیال تھا کہ شاید یہ دن رجب یعنی شہرِ حرام کا آخری ہے جس میں عرب کے قدیم دستور کے مطابق لڑائی نہیں ہونی چاہیے اور بعض سمجھتے تھے کہ رجب گزر چکا ہے اور شعبان شروع ہے اور بعض روایات میں ہے کہ یہ سر یہ جمادی الآخر میں بھیجا گیا تھا اور شک یہ تھا کہ یہ دن جہادی کا دن ہے یار جب کا لیکن دوسری طرف نخلہ کی