خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 50
خطبات مسرور جلد 17 50 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2019 پھر ایک صحابی ہیں حضرت سعد مولی حضرت حاطب بن ابی بلتعم ان کا تعلق بنو کلب کے قبیلے سے تھا۔حضرت سعد بن خولی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔حضرت سعد بن خَوْلِی کا تعلق قبیلہ بنو کلب سے ہے لیکن ابو معشر کے نزدیک ان کا تعلق قبیلہ بنو مَذْحِج سے تھا۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آپ اہل فارس میں سے تھے۔حضرت سعد بن خولی، حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے پاس غلام ہو کر پہنچے۔حضرت حاطب بن ابی بلتعہ آپ کے ساتھ نہایت شفقت اور مہربانی سے پیش آتے تھے۔حضرت سعد حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے ساتھ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک ہوئے اور غزوہ احد میں آپ کی شہادت ہوئی۔حضرت عمرؓ نے حضرت سعد کے بیٹے عبد اللہ بن سعد کا انصار کے ساتھ وظیفہ مقرر فرمایا۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 428 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 85 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (سير الصحابه جلد 4 حصه 7 صفحه 318 حضرت سعد بن خولی مطبوعه دار الاشاعت کراچی 2004ء) پھر ایک صحابی ہیں حضرت ابو سنان بن مخصن۔ان کے والد مِحْصن بن حُزنان تھے۔ان کی کنیت ابوسنان تھی۔ان کا نام وهب بن عبداللہ تھا اور عبدالله بن وهب بھی بیان کیا جاتا ہے اور کنیت تھی آبو سنان۔جبکہ صحیح ترین قول کے مطابق جو تاریخ میں ملتا ہے آپ کا نام وهب بن مخصن تھا۔حضرت ابو سنان بن مخصن حضرت عُکاشہ بن محصن کے بھائی تھے۔(اسد الغابه جلد 6 صفحه 153 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) آپ حضرت عُکاشہ بن محصن سے بڑے تھے۔اس کے بارے میں بھی یہ روایت ہے کہ حضرت عُکاشہ سے تقریباً دو سال بڑے تھے اور مختلف روایتیں بھی ہیں۔بعض نے دس سال کہا۔بعض نے بیس سال کہا۔(اسد الغابه جلد6 صفحه 153 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (الروض الانف جلد 4 صفحه 62 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) ( الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 69 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) ان کے بیٹے کا نام سنان بن ابو سنان تھا۔غزوہ بدر اور غزوہ احد اور غزوہ خندق میں شریک تھے۔یہ بعض روایات میں ملتا ہے کہ بیعت رضوان میں سب سے پہلے بیعت کرنے والے حضرت ابو سنان بن مخصن اسدی تھے مگر یہ درست نہیں کیونکہ حضرت ابوسنان محاصرہ بنو قریظہ کے وقت 5 ہجری کو بعمر 40 سال وفات پا چکے تھے اور بیعت رضوان کے موقع پر بیعت کرنے والے ان کے بیٹے حضرت سنان بن ابو سنان تھے۔حضرت ابو سنان بن مخصن کی وفات اس وقت ہوئی جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کا محاصرہ کیا ہو ا تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قریظہ کے قبرستان میں دفن کر دیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 69 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر ایک صحابی ہیں حضرت قیس بن السکن انصاری۔ان کی کنیت ابوزید تھی۔حضرت قیس کے والد کا نام سکن بن زَعُورَاء تھا۔آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو عدی بن نجار سے تھا۔