خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 653 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 653

653 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2019 خطبات مسرور جلد 17 بنیں۔ان کو 1956 ء سے لے کر 2008ء تک مختلف اوقات میں تقریباً اڑتالیس سال مرکزی لجنہ کی سیکرٹری نمائش کے طور پر خدمت بجالانے کی توفیق ملی۔اسی طرح اور بھی ان کی خدمات ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے ان کا بہت پیار کا تعلق تھا۔تہجد کا بہت خیال رکھنے والی تھیں بلکہ ان کی ملازمہ نے بتایا کہ جس رات ان کی وفات ہوئی ہے اس رات بھی تین بجے کے قریب تہجد ادا کی اور پھر سو گئیں اور اسی حالت میں ان کی وفات ہو گئی۔ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ مجھے بتاتی تھیں کہ جب میں بیاہ کر ، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی بہو بن کے اس خاندان میں آئی تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اور حضرت ام ناصر نے مجھے اتنا پیار اور عزت اور محبت دی کہ میکے کی یاد مجھے بالکل بھول گئی۔پھر انہوں نے بہت حوالے بھی دیے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ، باتیں یاد تھیں اور اچھی یادداشت تھی۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور رحم فرمائے۔درجات بلند کرے۔دوسر ا ذ کر ہماری مرحومہ سٹر حاجہ شکورہ نوریہ صاحبہ کا ہے۔امریکہ کی ہیں جو یکم دسمبر کو وفات پاگئی تھیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔آپ 1927ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ابتدائی زمانہ واشنگٹن ڈی سی میں گزارا۔1960ء کی دہائی میں آپ ہائی سکول میں تاریخ کے مضمون کی ٹیچر رہیں۔بعد میں ورلڈ ہسٹری میں ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔پھر ریٹائر منٹ کے بعد ان کی خواہش تھی کہ آپ پروٹسٹنٹ مشنری بنیں لیکن بعد میں جب آپ کو اس بات کا علم ہوا کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں تو آپ نے دوسر اراستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر 1968ء میں باضابطہ طور پر آپ نے چرچ کو بھی چھوڑ دیا۔امریکہ ، میکسیکو اور کینیڈا میں سفر کے بعد آپ نے افریقہ کی متعد د یونیورسٹیوں میں مطالعہ کے لیے ایک سال کی رخصت لی۔پھر یورپ کا سفر بھی اختیار کیا۔ذہن میں اٹھنے والے دینی سوالات اور مسائل کو حل کروانے کی تلاش میں رہتی تھیں۔واشنگٹن ڈی سی جب واپس آئیں تو ان کا تعارف مذہب اسلام سے ہوا۔اتفاقا آپ کی ملاقات ایئر پورٹ پر اپنے ایک دوست کے بیٹے سے ہوئی جنہوں نے کچھ عرصہ قبل احمدیت قبول کی تھی۔اس وقت وہاں مکرم میر محمود احمد ناصر صاحب ہوتے تھے۔وہ وہاں مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر سے ملاقات کرنے کے لیے مکرم مبشر صاحب کے ہمراہ ایئر پورٹ پر موجود تھے تو اسی میں ان کا بھی تعارف ہو گیا۔انہوں نے آپ کو دین اسلام سے متعارف کر وایا اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا اور آہستہ آہستہ اسلام کی طرف مائل ہونے لگیں اور جس عقیدے کی آپ کو تلاش تھی وہ آپ کو اسلام میں نظر آنے لگا۔1979ء میں آپ نے خواب میں قرآن کریم کے ایک نسخہ اور کلمہ شہادت کو دیکھا۔اس کے بعد آپ کو یقین ہو گیا کہ اسلام اور احمدیت ہی حقیقی مذہب ہے۔چنانچہ آپ نے بیعت کر لی۔بیعت کے بعد آپ نے مختلف حیثیتوں سے جماعتی خدمات سر انجام دیں۔لجنہ اماءاللہ امریکہ کے مختلف پروگراموں میں نہ صرف حصہ لیتیں بلکہ فعال کردار ادا کرتی تھیں۔1986ء میں آپ واشنگٹن ڈی سی مجلس کی لوکل صدر منتخب ہوئیں جہاں پانچ سال تک آپ نے خدمت سر انجام دی اور ساتھ ساتھ آپ کو نیشنل نائب صدر کے طور پر بھی خدمت کی توفیق ملی۔اس کے علاوہ آپ کو مختلف شعبہ جات میں بھی خدمت کی توفیق ملی۔1995ء میں آپ کو حج کرنے کی توفیق ملی۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر اور آپ