خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 652
خطبات مسرور جلد 17 652 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2019 شائع ہوں۔اس ویب سائٹ میں روزانہ کے شمارہ کی پی ڈی ایف کی شکل میں امیج فائل بھی موجود ہو گی جس کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ ڈاؤن لوڈ بھی کیا جاسکے گا جو پرنٹ کی شکل میں پڑھنا چاہیں وہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔بہر حال اس کا آج ان شاء اللہ آغاز ہو جائے گا۔اسی طرح پیر کے روز اس میں خطبہ جمعہ کا مکمل متن جو ہے وہ شائع کیا جائے گا اور تازہ خطبے کا خلاصہ بھی بیان ہو جائے گا۔تو ان شاء اللہ جمعے کے بعد اس کا افتتاح ہو جائے گا۔دو مر حو مین ہیں جن کا میں ذکر کروں گا اور جن کے جنازے پڑھاؤں گا ان شاء اللہ ، ان میں سے پہلا مکرمہ سیدہ تنویر الاسلام صاحبہ کا ہے جو مکرم مرزا حفیظ احمد صاحب مرحوم کی اہلیہ تھیں۔17 دسمبر کو 91سال کی عمر میں یہ وفات پاگئی ہیں۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ان کا خاندانی تعارف اس طرح ہے۔ان کے والد کا نام میر عبد السلام تھا اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیرینہ اور مخلص صحابی حضرت میر حسام الدین صاحب کی پڑپوتی تھیں۔حضرت سید میر حامد شاہ صاحب کی پوتی تھیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہو تھیں۔حضرت میر حسام الدین صاحب بڑے مشہور صحابی ہیں۔آپ 1839ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے اور سیالکوٹ کے بڑے معروف حکیم تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جب سیالکوٹ میں قیام پذیر تھے تو حکیم صاحب دواسازی اور مطب کیا کرتے تھے۔اس زمانے میں حضرت اقدس کی رہائش ان کے مکان کے ایک حصہ میں بھی رہی ہے اور 1877ء میں حضرت اقدس سیالکوٹ تشریف لائے تو حکیم صاحب کے مکان پر ایک دعوت کی تقریب میں تشریف لے گئے۔حضرت اقدس کی وہ پاکیزہ جوانی اور نمونہ تھا کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا تو وہ لوگ جو نیک اور سعید فطرت تھے اور فہم و فراست کے نور سے حصہ پانے والوں میں سے تھے انہوں نے آپ کو قبول کیا اور سیالکوٹ کے جن احباب نے آپ کو قبول کیا ان میں سے اخلاص و وفا میں یہ گھرانہ بھی سر فہرست تھا۔(ماخوذ از احمد علیہ السلام سیرت و سوانح (غیر مطبوعہ) مکرم سید مبشر احمد ایاز صاحب جلد 2 صفحہ 468) سید میر حامد شاہ صاحب نے 29 / دسمبر 1890ء کو حضرت اقدس کی مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔رجسٹر بیعت کے مطابق ان کا نمبر 213 ہے اور ان کی اہلیہ فیروزہ بیگم صاحبہ کا نمبر 246 ہے جنہوں نے 17 فروری 1892ء کو بیعت کی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں ان کا ذکر کیا ہے۔ازالہ اوہام میں آسمانی فیصلہ، آئینہ کمالات اسلام، تحفہ قیصریہ ، سراج منیر ، کتاب البریہ ، حقیقۃ الوحی اور ملفوظات جلد پنجم میں کئی جگہ اپنے مخلصین، جلسہ سالانہ کے شرکاء، چندہ دہندگان، جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور پر امن جماعت کے ضمن میں ان کا ذکر فرمایا ہے۔(ماخوذ از تین سو تیرہ اصحاب صدق و صفا از نصر اللہ خان ناصر ،عاصم جمالی صفحہ 42-43) بہر حال مکرمہ سیدہ تنویر الاسلام صاحبہ ان کی نسل میں سے تھیں اور یہ 1928ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئیں اور پھر جنوری 1948ء میں ان کی شادی مرزا حفیظ احمد صاحب سے ہوئی اور اس طرح یہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی بہو