خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 654
خطبات مسرور جلد 17 654 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2019 کی رہ نمائی میں قرآن کریم کی جو پانچ جلدوں والی تفسیر ہے، Five volume commentary، اس کے لیے 118 صفحوں پر مشتمل انڈیکس تیار کرنے والی ٹیم میں یہ شامل تھیں اور اس کو بنانے میں ان کا بڑا کر دار تھا۔لجنہ اور جماعت کے مختلف رسائل اور مجلسوں میں بھی آپ نے متعدد عناوین پر مضامین لکھے۔1997ء اور 1998ء میں اطفال کے لیے ہر اتوار والے دن کلاسز کا اجرا کیا۔ناصرات کے لیے احمدی سمر کیمپ(summer camp) میں کو نسلر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔کئی سالوں تک آپ نے احمد یہ نیشنل ہیومن رائٹس کمیٹی میں بھی خدمات سر انجام دیں جس کے ذریعہ آپ نے نہایت جانفشانی سے پاکستانی حکومت کی طرف سے احمدیوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں پر نہایت جامع ڈاکیومنٹس تیار کیے۔شمشاد ناصر صاحب وہاں کے مبلغ ہیں لکھتے ہیں، لیکن ان تمام کاموں سے بڑھ کر آپ کہا کرتی تھیں کہ تبلیغ کرنا ان کی پہلی محبت تھی اور ہر کام پر اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو ہی مقدم رکھا کرتی تھیں۔کئی سال تک آپ لجنہ کی نیشنل تبلیغ سیکرٹری کے طور پر خدمات بجا لاتی رہیں۔ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں بھی تبلیغ کیا کرتی تھیں۔نیز یونیورسٹی کیمپس اور گرجاگھروں میں بھی مختلف تبلیغی پروگرام منعقد کرنے میں فعال کردار ادا کیا کرتی تھیں۔جماعتی لٹریچر کو مختلف ایتھنک (ethinic) گروہوں میں تقسیم کرنے کے لیے بھی آپ نے با قاعدہ منصوبہ تیار کیا ہو ا تھا۔یہ شمشاد صاحب کی رپورٹ نہیں تھی۔یہ دوسرے حوالے سے آئی تھی۔شمشاد صاحب نے جو ان کا ذکر کیا ہے وہ اس طرح ہے۔لکھتے ہیں کہ سٹر شکورہ نور یہ صاحبہ پردہ کی بہت پابند تھیں۔ہر وقت پاکستانی سٹائل کا برقع پہن کر رکھتیں۔ان کا برقع ان کے کسی کام میں کبھی رکاوٹ نہیں بنا۔جماعتی کاموں کی وجہ سے انہیں بعض اوقات حکومتی سطح پر سینیٹرز، کانگریس مین وغیرہ سے بھی ملنا پڑتا تھا اور وہاں بھی بُرقع پہن کر جایا کرتی تھیں اور سارے کام بخوبی سر انجام دیتی تھیں۔تبلیغ کے کاموں میں مبلغین کرام کی بہت مدد کرتی تھیں۔شمشاد صاحب کہتے ہیں کہ میں جب یہاں نیا آیا تو میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے امریکہ کی ہسٹری بتائی اور کام کرنے میں مدد کرتی تھیں۔پھر لکھتے ہیں کہ آپ کو خلافت کا بے حد احترام تھا اور بڑی گہری وابستگی تھی۔اب میں جب 2018ء میں امریکہ گیا ہوں تو باوجو د بیماری کے وہیل چیئر پر، بڑی مشکل سے، تکلیف سے ملنے بھی آئی تھیں۔خطبات بڑی باقاعدگی کے ساتھ سنتی تھیں۔شروع میں جب ایم۔ٹی۔اے نہیں تھا اور کیسٹ کے ذریعہ خطبہ آتا تھا تو آپ خطبے کا انگریزی ترجمہ کرنے میں بہت مدد کیا کرتی تھیں۔نماز با جماعت کی پابند تھیں۔یہ لکھتے ہیں کہ میں نے تو جب بھی انہیں دیکھا مسجد میں ہی دیکھا اور باقاعدگی کے ساتھ مسجد میں نماز باجماعت میں شامل ہوا کرتی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ان کے درجات بلند کرے اور اللہ تعالیٰ خدمت کے جذبے سے معمور اور اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ایسے اور لوگ بھی جماعت کو عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 03 / جنوری 2020ء جلد 27 شمارہ 1 0 صفحہ 05 تا09)