خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 650
مسرور جلد 17 650 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2019 چوتھی جو تدبیر تھی وہ آپ نے یہ اختیار فرمائی کہ آپ نے قریش کے ان تجارتی قافلوں کی روک تھام شروع فرما دی جو مکے سے شام کی طرف آتے جاتے ہوئے مدینے کے پاس سے گزرتے تھے۔کیونکہ پہلی بات تو یہ کہ یہ قافلے جہاں جہاں سے گزرتے تھے مسلمانوں کے خلاف عداوت کی آگ لگاتے جاتے تھے اور ظاہر ہے کہ مدینے کے گردو نواح میں اسلام کی عداوت کا تم بویا جانا مسلمانوں کے لیے نہایت خطر ناک تھا۔دوسرے یہ کہ یہ قافلے ہمیشہ مسلح ہوتے تھے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس قسم کے قافلوں کا مدینے سے اس قدر قریب ہو کر گزرنا ہر گز خطرے سے خالی نہیں تھا۔اور تیسری بات یہ کہ قریش کا گزارہ زیادہ تر تجارت پر تھا اور ان حالات میں قریش کو زیر کرنے اور ان کو ان کی ظالمانہ کارروائیوں سے روکنے اور صلح پر مجبور کرنے کا یہ سب سے زیادہ یقینی اور سریع الاثر ذریعہ تھا کہ ان کی تجارت کا راستہ بند کر دیا جاوے۔چنانچہ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جن باتوں نے بالآخر قریش کو صلح کی طرف مائل ہونے پر مجبور کیا ان میں ان کے تجارتی قافلوں کی روک تھام کا بہت بڑا دخل تھا۔پس یہ ایک نہایت دانشمندانہ تدبیر تھی جو اپنے وقت پر کامیابی کا پھل لائی۔پھر یہ بھی کہ قریش کے ان قافلوں کا نفع بسا اوقات اسلام کو مٹانے کی کوشش میں صرف ہو تا تھا بلکہ بعض قافلے تو خصوصیت کے ساتھ اسی غرض سے بھیجے جاتے تھے کہ ان کا سارا نفع مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔اس صورت میں ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان قافلوں کی روک تھام خود اپنی ذات میں بھی ایک بالکل جائز مقصود تھی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 323-324) سريه عبيد بن حارث ہے جس میں حضرت عتبہ قریش کے لشکر سے نکل کر مسلمانوں سے جاملے تھے اس کا مزید ذکر اس طرح ہے۔کچھ حصہ تو میں گذشتہ کسی خطبے میں بیان کر چکا ہوں۔بہر حال مختصر یہاں بیان کر دیتا ہوں کہ ماہ ربیع الاول دو ہجری کے شروع میں آپ صلی لی یکم نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار عبیدہ بن الحارث مطلبي کی امارت میں ساٹھ شتر سوار مہاجرین کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔اس مہم کی غرض بھی قریش مکہ کے حملوں کی پیش بندی تھی۔میں سیرت خاتم النبیین کا ہی یہ حوالہ دے رہا ہوں۔چنانچہ جب عبیدہ بن الحارث اور ان کے ساتھی کچھ مسافت طے کر کے ثَنِيَّةُ الْمَرَہ کے پاس پہنچے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ قریش کے دوسو مسلح نوجوان عکرمہ بن ابو جہل کی کمان میں ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔فریقین ایک دوسرے کے سامنے ہوئے اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں کچھ تیر اندازی بھی ہوئی لیکن پھر مشرکین کا گروہ یہ خوف کھا کر کہ مسلمانوں کے پیچھے کچھ کمک مخفی ہو گی ان کے مقابلے سے پیچھے ہٹ گیا اور مسلمانوں نے ان کا پیچھا نہیں کیا۔البتہ مشرکین کے لشکر میں سے دو شخص مقداد بن عمرو اور عتبه بن غزوان، عکرمہ بن ابو جہل کی کمان سے خود بخود بھاگ کر مسلمانوں کے ساتھ آملے اور لکھا ہے کہ وہ اسی غرض سے قریش کے ساتھ نکلے تھے کہ موقع پاکر مسلمانوں میں آملیں کیونکہ وہ دل سے مسلمان تھے مگر بوجہ اپنی کمزوری کے قریش سے ڈرتے ہوئے ہجرت نہیں کر سکتے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے تجزیہ کیا ہے کہ اور ممکن ہے کہ اسی واقعہ نے قریش کو بد دل کر دیا ہو اور انہوں نے اسے بدفال سمجھ کر پیچھے ہٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہو۔تاریخ میں یہ مذکور نہیں ہے کہ قریش کا یہ لشکر جو یقینا کوئی تجارتی قافلہ نہیں تھا اور جس کے