خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 649
خطبات مسرور جلد 17 649 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2019 یہی وہ قبائل تھے جن سے قریش مکہ مسلمانوں کے خلاف زیادہ مدد لے سکتے تھے اور جن کی دشمنی مسلمانوں کے واسطے سخت خطرات پیدا کر سکتی تھی۔دوم: دوسر ا قدم آپ نے یہ اٹھایا کہ آپ نے چھوٹی چھوٹی خبر رساں پارٹیاں مدینے کے مختلف جہات میں روانہ کرنی شروع فرمائیں تا کہ آپ کو قریش اور ان کے حلیفوں کی حرکات و سکنات کا علم ہو تار ہے اور قریش کو بھی یہ خیال رہے کہ مسلمان بے خبر نہیں ہیں اور اس طرح مدینہ اچانک حملوں کے خطرات سے محفوظ ہو جائے۔مدینہ پہنچنے کے بعد تیسر ا قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ اٹھایا کہ ان پارٹیوں کے بھجوانے میں آپ کی ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ اس کے ذریعہ سے مکہ اور اس کے گردونواح کے کمزور اور غریب مسلمانوں کو مدینہ کے مسلمانوں میں آملنے کا موقع مل جائے کیونکہ ابھی تک مکے کے علاقے میں کئی لوگ ایسے موجود تھے جو دل سے مسلمان تھے مگر قریش کے مظالم کی وجہ سے اپنے اسلام کا بر ملا اظہار نہیں کر سکتے تھے اور نہ اپنی غربت اور کمزوری کی وجہ سے ان میں ہجرت کی طاقت تھی کیونکہ قریش ایسے لوگوں کو ہجرت سے جبر أروکتے تھے۔چنانچہ قرآن شریف میں خدا تعالی فرماتا ہے وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَ اجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنْكَ وَلِيًّا وَ اجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنْكَ نَصِيرًا - (النساء: 76) یعنی اے مومنو کوئی وجہ نہیں کہ تم لڑائی نہ کرو اللہ کے دین کی حفاظت کے لیے اور ان مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر جو کمزوری کی حالت میں پڑے ہیں اور دعائیں کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ! نکال ہم کو اس شہر سے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہم ناتوانوں کے لیے اپنی طرف سے کوئی دوست اور مددگار عطا فرما۔پس ان پارٹیوں کے بھجوانے میں ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ تا ایسے لوگوں کو ظالم قوم سے چھٹکارا پانے کا موقع مل جاوے۔یعنی ایسے لوگ قریش کے قافلوں کے ساتھ ملے ملائے مدینہ کے قریب پہنچ جائیں اور پھر مسلمانوں کے دستے کی طرف بھاگ کر مسلمانوں میں آملیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلا دستہ ہی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبیدہ بن الحارث کی سرداری میں روانہ فرمایا تھا اور جس کا عکرمہ بن ابو جہل کے ایک گروہ سے سامنا ہو گیا تھا اس میں مکے کے دو کمزور مسلمان جو قریش کے ساتھ ملے ملائے آگئے تھے قریش کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آملے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ اس مہم میں جب مسلمانوں کی پارٹی لشکر قریش کے سامنے آئی تو دو شخص مقداد بن عمرو اور عُتبہ بن غزوان جو بنوزہرہ اور بنو نو فل کے حلیف تھے مشرکین میں سے بھاگ کر مسلمانوں میں آملے اور یہ دونوں شخص مسلمان تھے اور صرف کفار کی آڑ لے کر مسلمانوں میں آملنے کے لیے نکلے تھے۔پس ان پارٹیوں کے بھجوانے میں ایک غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی تھی کہ تا ایسے لوگوں کو ظالم قریش سے چھٹکارا پانے اور مسلمانوں میں آملنے کا موقع ملتار ہے۔