خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 648
خطبات مسرور جلد 17 648 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2019 ہجرت کی تو اس وقت ان کی عمر چالیس سال تھی جبکہ ابن سعد کے مطابق ہجرت مدینہ کے وقت وہ چالیس سال کے تھے۔بہر حال وہ حبشہ سے مکہ واپس آئے جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکے میں ہی مقیم تھے۔حضرت عتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقیم رہے یہاں تک کہ انہوں نے حضرت مقداد کے ہمراہ مدینہ کی طرف ہجرت کی اور یہ دونوں ابتدائی اسلام قبول کرنے والوں میں سے تھے۔(اسد الغابه في معرفة الصحابة جلد 3 صفحه 558-559 دار الكتب العلمية بيروت 2003ء) (الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 72 من حلفاء بني نوفل بن عبد مناف دار الكتب العلمية بیروت، 1990ء)(امتاع الاسماع جزء 6 صفحه 331 فصل في ذكر موالى رسول الله الله بیروت 1999ء) حضرت عتبه بن غَزْوَانَ اور حضرت مقداد بن اسود دونوں کی مدینہ کی طرف ہجرت کا واقعہ اس طرح ہے کہ مکے سے وہ دونوں مشرکین قریش کے لشکر کے ساتھ نکلے تا کہ مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو سکیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبیدہ بن حارث کی قیادت میں مسلمانوں کا ایک لشکر ثَنِيَّةُ الْمَرَهُ، یہ رابغ شہر کے شمال مشرق میں تقریباً 55 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور مدینہ منورہ سے اس کا فاصلہ تقریباً دوسو کلو میٹر ہے۔یہ اس کی طرف روانہ ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لشکر روانہ فرمایا۔قریش کے لشکر کی قیادت عکرمہ بن ابو جہل کر رہا تھا۔ان دونوں گروہوں کے درمیان لڑائی نہ ہوئی سوائے ایک تیر کے جو حضرت سعد بن ابی وقاص نے چلایا تھا اور وہ خدا کی راہ میں پہلا تیر تھا جو چلایا گیا۔اس روز عتبه بن غزوان ہے اور حضرت مقداد بھاگ کر مسلمانوں کے ساتھ جاملے۔(اٹلس سیرت نبوی سریه عبیده بن حارث صفحه 196 مكتبه دار السلام) (الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 4 صفحه 1480-1481 مقداد بن اسود دار الجيل بيروت) یہ اس قافلے میں آئے تو کافروں کے ساتھ تھے لیکن جیسا کہ پہلے حضرت مقداد کے بارے میں ذکر ہو چکا ہے یہ ادھر آگئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں تاریخی کتب سے لے کے جہاد بالسیف کا آغاز اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدافعانہ کارروائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جہاد بالسیف کی اجازت میں پہلی قرآنی آیت بارہ صفر 2 ہجری کو نازل ہوئی۔یعنی دفاعی جنگ کے اعلان کا جو خدائی اشارہ ہجرت میں کیا گیا تھا اس کا باضابطہ اعلان صفر 2 ہجری کو کیا گیا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قیام مدینہ کی ابتدائی کارروائیوں سے فارغ ہو چکے تھے اور اس طرح جہاد کا آغاز ہو گیا۔تاریخ سے پتا لگتا ہے کہ کفار کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء چار تدابیر اختیار کی تھیں جو آپ کی اعلیٰ سیاسی قابلیت اور جنگی دور بینی کی ایک دلیل ہے ، بڑی کھلی دلیل ہے اور وہ تدابیر یہ تھیں: پہلی یہ کہ آپ نے خود سفر کر کے آس پاس کے قبائل کے ساتھ باہمی امن وامان کے معاہدے کرنے شروع کیے تاکہ مدینے کے ارد گرد کا علاقہ خطرے سے محفوظ ہو جائے۔اس امر میں آپ نے خصوصیت کے ساتھ ان قبائل کو مد نظر رکھا جو قریش کے شامی رستے کے قرب وجوار میں آباد تھے کیونکہ جیسا کہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے