خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 647
خطبات مسرور جلد 17 647 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2019 تھا۔ان کے والد کا نام ربیعی اور ربیعہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔حضرت مُرارہ بن ربیع عمری کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کے خاندان بنو عمرو بن عوف سے تھا جبکہ ایک روایت کے مطابق ان کا تعلق بنو عمر و بن عوف کے اتحادی قبیلہ قضائہ سے تھا۔قضائہ عرب کا ایک مشہور قبیلہ ہے جو مدینے سے دس منزل پر وادی القری سے آگے واقع ہے اور مدائن صالح کے مغرب میں آباد ہے۔(أسدالغابة في معرفة الصحابة جلد 5 صفحه 129 مُرَارَة بن ربيع دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (الاصابه في تمييز الصحابة جلد 6 صفحه 52 مُرَارَة بن ربيع دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) (فرهنگ سیرت صفحه 237 مطبوعه زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی 2003ء) حضرت مرارہ کو غزوہ بدر میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔امام بخاری اور صحابہ کے حالات پر مشتمل کتب میں ان کے غزوہ بدر میں شامل ہونے کا تذکرہ ملتا ہے جبکہ ابن ہشام نے بدری صحابہ کی فہرست میں ان کا نام درج نہیں کیا۔یہ ان تین انصار صحابہ میں سے تھے جو غزوہ تبوک میں شامل نہ ہو سکے تھے جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی یہ آیت بھی نازل فرمائی تھی کہ وَ عَلَى الثَّلَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا اَنْ لَّا مَلْجَأَ مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ - (التوبه: 118) اور ان تینوں پر بھی اللہ تو بہ قبول کرتے ہوئے جھکا جو پیچھے چھوڑ دیے گئے یہاں تک کہ جب زمین ان پر باوجو د فراخی کے تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں تنگی محسوس کرنے لگیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ نہیں مگر اسی کی طرف پھر وہ ان پر قبولیت کی طرف مائل ہوتے ہوئے جھک گیا تا کہ وہ تو بہ کر سکیں۔یقینا اللہ ہی بار بار توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔جیسا کہ پہلے یہ ذکر ہو چکا ہے کہ یہ تینوں پیچھے رہ جانے والے صحابہ حضرت کعب بن مالک، حضرت مرارہ بن ربیعی اور حضرت ھلال بن امیہ تھے اور یہ تینوں انصار سے تھے۔(صحيح البخارى كتاب المغازی باب حدیث کعب بن مالك حديث 4418) (أسدالغابة في معرفة الصحابة جلد 5 صفحه 129 مُرارَة بن ربيع دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) اس حوالے سے حضرت مرارہ کا علیحدہ کوئی بیان نہیں ہے حضرت کعب بن مالک کا ہی تفصیلی بیان ہے جو حضرت ھلال بن امیہ کے تعلق میں گذشتہ خطبے میں بیان کر چکا ہوں اس لیے دوبارہ یہاں بیان کی ضرورت نہیں ہے۔اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت عُتبہ بن غَزْوَانَ۔ان کی کنیت ابو عبد اللہ اور ابو غزوان تھی۔حضرت علشبہ قبیلہ بنو نوفل بن عبد مناف کے حلیف تھے۔حضرت غنیہ کے والد کا نام غزوان بن جابر تھا۔حضرت عبہ کی کنیت ابو عبد اللہ کے علاوہ ابو غزوان بھی بیان کی جاتی ہے جیسا کہ بیان ہوا۔حضرت نبیہ نے ازدہ بنت حارث سے شادی کی تھی۔حضرت عتبہ خود بیان کرتے ہیں کہ میں ان افراد میں سے ساتواں تھا جو سب سے پہلے اسلام قبول کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئے تھے۔ابن اثیر کے مطابق حضرت عتبہ نے جب حبشہ کی طرف