خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 646 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 646

خطبات مسرور جلد 17 646 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2019 سے ہو کیونکہ اس وقت ثَنِيَّةُ الْوَدَاع مقام پر لوگوں اور بچوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا تھا کیونکہ ملک شام کی جانب سے آنے والوں کا استقبال اسی جگہ سے کیا جاتا تھا۔جب اہل مدینہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوۂ تبوک سے واپسی کا علم ہوا تو وہ خوشی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے کے لیے مدینے سے باہر اس مقام پر نکلے جیسا کہ حضرت سائب بن یزید بیان کرتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ میں بھی دوسرے بچوں کے ساتھ اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے ثَنِيَّةُ الوَدَاع گیا تھا جب آپ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے۔امام بیہقی نے بھی یہ بیان کیا ہے کہ بچوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان اشعار کے ذریعہ استقبال کیا تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے مدینہ واپس تشریف لائے تھے۔(معجم البلدان الجزء 2 صفحه 100 ثَنِيَّةُ الْوَدَاع مطبوعه دار الكتب العلميه بیروت)(ماخوذ از جستجوئے مدينه صفحه 403-404 مطبوعه اورینٹل پبلی کیشنز لاهور 2007ء) (ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 267) بہر حال مؤرخین اور سیرت نگاروں کی دونوں قسم کی آرا موجود ہیں یعنی بعض کے نزدیک یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کے وقت اور بعض کے نزدیک غزوہ تبوک سے واپسی پر یہ اشعار پڑھے گئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی کہ جب کسی سفر سے مدینہ واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں پہنچ کر دور کعت نماز ادا کرتے۔چنانچہ جب آپ تبوک سے واپس تشریف لائے تو مدینہ میں چاشت کے وقت داخل ہوئے اور پہلے مسجد میں دور کعت نماز ادا کی۔(مسند الامام احمدبن حنبل جلد 5 صفحه 414 مسند کعب بن مالك حديث 15865 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1988ء) نماز کے بعد آپ لوگوں کے لیے مسجد میں تشریف فرما ہوئے اس کے بعد دو نفل پڑھنے کے بعد وہیں بیٹھ گئے اور اس وقت وہ لوگ بھی آپ سے ملنے کے لیے آئے جو عمد آپیچھے رہ گئے تھے۔وہ جو بغیر کسی عذر کے جان بوجھ کے پیچھے رہنے والے تھے وہ آپ کے سامنے اپنا کوئی نہ کوئی عذر پیش کرتے۔ایسے لوگوں کی تعداد جو تھی اتنی کے قریب تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عذروں کی حقیقت جانتے ہوئے بھی یہ جانتے تھے کہ یہ غلط عذر کر رہے ہیں اس کے باوجود ان کے ظاہری بیانات کو قبول فرماتے اور ان سے در گذر فرماتے رہے اور ان کی بیعت بھی لیتے رہے اور ان کے لیے استغفار بھی کرتے رہے۔(ماخوذ از صحیح البخاری کتاب المغازى باب حديث كعب بن مالك حديث 4418) لیکن جیسا کہ پہلے تفصیلی ذکر ہو چکا ہے حضرت ھلال بن امیہ حضرت مرارہ بن ربیع اور حضرت کعب بن مالک نے کوئی جھوٹا عذر نہیں کیا اور اس کی وجہ سے کچھ عرصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کو برداشت کیا۔بڑے روتے رہے، گڑ گڑاتے رہے، اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتے ہوئے جھکے رہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کی توبہ قبول کرنے کا اعلان بھی فرما دیا۔دوسرے صحابی جن کا ذکر ہو گاوہ حضرت مُرارہ بن ربیع عمری ہیں۔حضرت مُرارہ کے والد کا نام ربیع بن عدی