خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 645
خطبات مسرور جلد 17 645 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2019 یہ لوگ ایسے تھے جن کا عذر بھی جائز تھا اور ان کا مرض تھا یا کوئی وجہ بن گئی جس کی وجہ سے باوجود خواہش کے وہ نہیں جاسکے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ساتھ ہی رکھا۔تبوک سے واپسی کے سفر میں ایک موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جلدی جارہا ہوں۔پس تم میں سے جو چاہے میرے ساتھ جلدی چلے اور جو چاہے ٹھہر جائے یعنی آرام سے پیچھے آتار ہے۔راوی کہتے ہیں پھر ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہمیں مدینہ دکھائی دیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طابہ ہے یعنی پاکیزہ اور خوشگوار اور یہ احد ہے یہ ایسا پہاڑ ہے کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار کے گھروں میں بہترین گھر بنو نجار کا گھر ہے۔پھر بَنُو عَبْدُ الْأَشْهَلْ کا گھر ہے پھر بنو عبد الحارث بن خزرج کا گھر۔رہے۔پھر بنو سَاعِدہ کا گھر اور آپ نے انصار کے سب گھروں کو اچھا قرار دیا۔حضرت سعد بن عبادہ ہم سے آملے۔راوی بیان کر رہے ہیں تو ابو اسید نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے یا گھروں کی فضیلت بیان کی ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے۔حضرت سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کیا کہ یار سول اللہ ! آپ نے انصار کے گھروں کی فضیلت بیان کی ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے لیے کافی نہیں کہ تم خیر والوں میں سے ہو ؟ یہ صحیح مسلم کی روایت ہے۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فى معجزات النبي يا الله 1392) واپسی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے مدینہ کے لوگ کیامر داور کیا عور تیں اور کیا بچے مدینے سے باہر ثَنِيَّةُ الوَدَاع کے پاس آئے، وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ثَنِيَّةُ الْوَدَاع مدینہ کے قریب ایک مقام ہے اور مدینہ سے مکہ جانے والوں کو اس مقام تک آکر الوداع کہا جاتا تھا۔اس لیے اس کو ثَنِيَّةُ الوداع کہتے تھے۔مورخین، سیرت نگاروں کے نزدیک جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے سے ہجرت کر کے جب آپ قبا کی طرف سے مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے اس جانب بھی ثَنِيَّةُ الْوَدَاع تھی۔حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق وہاں مدینہ کے بچوں نے آپ کا استقبال کیا اور لڑکیاں یہ گار ہی تھیں کہ طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَامًا دَعَى لِلَّهِ دَاعِ کہ چودھویں کی رات کا چاند ہم پر ثنية الوداع کی جانب سے طلوع ہوا۔ہم پر اللہ کا شکر واجب ہو گیا ہے جب تک کہ اللہ کا کوئی نہ کوئی پکارنے والا رہے گا۔کچھ شارحین حدیث جیسے علامہ ابن حجر عسقلانی شارح بخاری ہیں۔بخاری کی شرح لکھی ہے۔ان کا خیال ہے کہ عین ممکن ہے کہ جن اشعار کا ذکر حضرت عائشہ سے بیان کردہ روایت میں ہے ، جو میں نے پڑھی ہے۔ان کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت