خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 644 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 644

خطبات مسرور جلد 17 644 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2019 ہیں اور وہ لوگوں کو غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جانے سے روک رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر کو فرمایا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے جاکر ان باتوں کے بارے میں پوچھو جو انہوں نے کہی ہیں۔اگر وہ ان سے انکار کریں تو انہیں بتا دینا کہ مجھے خبر پہنچی ہے تم نے یہ یہ کہا ہے۔جب حضرت عمار وہاں پہنچے اور انہوں نے وہ سب کہا تو وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر معذر تیں کرنے لگے۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 597 غزوة تبوك دار ابن حزم بيروت 2009ء) (السيرة الحلبية جلد3 صفحه 186، ذكر مغازيه يا الله ، دار الكتب العلمية بيروت (2002ء) (الطبقات الكبرى جلد 1 صفحه 390 ذكر البثار التي شرب منها رسول الله الله مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)(فرهنگ سیرت صفحه 84 مطبوعه زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی 2003ء) ان کی اس حالت کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ : يَحْذَرُ الْمُنْفِقُونَ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ (التوبه:64تا66) سُوْرَةٌ تُنْبِتُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ قُلِ اسْتَهْزِءُوا إِنَّ اللهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُونَ وَلَبِنْ سَأَلْعَهُمْ لَيَقُولُنَ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللهِ وَايَتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ إِنْ نَّعْفُ عَنْ طَابِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَابِفَةٌ بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِيْن۔کہ منافق ڈرتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی سورت نازل نہ کر دی جائے جو ان کو اس سے مطلع کر دے جو ان کے دلوں میں ہے۔تو کہہ دے کہ بے شک تمسخر کرتے رہو۔یہ ڈرنے کا ذکر بھی تمسخرانہ انداز میں کرتے ہیں۔اللہ تو یقیناً ظاہر کر کے رہے گا جس کا تمہیں خوف ہے اور اگر تو ان سے پوچھے تو ضرور کہیں گے کہ ہم تو محض گپ شپ میں محو تھے اور کھیلیں کھیل رہے تھے۔تو پوچھ کیا اللہ اور اس کے نشانات اور اس کے رسول سے تم استہزا کر رہے تھے ؟ کوئی عذر پیش نہ کرو یقیناً تم اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔اگر ہم تم میں سے کسی ایک گروہ سے در گزر کریں تو کسی دوسرے گروہ کو عذاب بھی دے سکتے ہیں۔اس لیے کہ وہ یقیناً مجرم ہیں۔بہر حال اس وقت یہ حالات تھے۔کچھ جانے سے پہلے منصوبے بن رہے تھے کہ نہ جایا جائے۔منافقین ان میں شامل تھے یہودی ان کو ابھار رہے تھے۔کچھ ویسے بہانے بناتے رہے اور بعد میں واپسی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بہانے بنائے۔بہر حال آپ نے ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس لوٹے اور مدینے کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا مدینے میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ ہر سفر اور ہر وادی میں تمہارے ساتھ تھے۔صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! جبکہ وہ مدینے میں ہیں تو پھر کس طرح ساتھ ہو گئے ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ مدینہ میں ہی ہیں مگر انہیں کسی عذر نے یا کسی مرض نے روک لیا تھا۔(مسند الامام احمد بن حنبل جلد 4 صفحه 263 مسند انس بن مالك حديث 12032 مطبوعه عالم الكتب بيروت لبنان 1998ء) (مسند الامام احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 132 مسند جابر بن عبد اللہ اس حدیث 14731 مطبوعه عالم الكتب بيروت لبنان 1998ء)