خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 643
خطبات مسرور جلد 17 643 50 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 13/ دسمبر 2019ء بمطابق 13 فتح 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سرے) یوکے تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گذشتہ خطبے میں میں حضرت بلال بن امیہ کا ذکر کر رہا تھا اور اس ذکر میں غزوہ تبوک کا بھی ذکر آگیا۔حضرت ھلال ان تین پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھے جو اس غزوے میں شامل نہیں ہوئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوے سے واپسی پر ان لوگوں سے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور کچھ سزادی جس پر یہ تینوں بڑے بے چین تھے اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے استغفار اور توبہ کرتے رہے یہاں تک کہ ان تین صحابہ کی گریہ وزاری جن میں حضرت ھلال بھی شامل تھے اللہ تعالیٰ کے حضور قبول ہوئی اور ان کی معافی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔بہر حال اس بارے میں یہ بھی بیان ہو اتھا کہ صحابہؓ نے اس غزوے کی تیاری کے لیے کس قدر قربانیاں دی تھیں اور یہ بھی ذکر تھا کہ بعض اور لوگ جن کے دلوں میں نفاق تھا اس میں شامل نہیں ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جھوٹے عذر پیش کیے۔بعض نے شروع میں جانے سے انکار کیا اور آپ نے ایسے منافقوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑا۔اس تسلسل میں کچھ اور باتیں ہیں جو میں اس وقت پیش کروں گا۔وہ لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ جانے کو ترجیح دے رہے تھے ان میں ایک شخص جذ بن قیس تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تم رومیوں سے جنگ کے لیے ہمارے ساتھ نہیں چلو گے ؟ اس نے یہ بہانہ بنایا کہ وہ عورتوں کی وجہ سے فتنے میں پڑ سکتا ہے اس لیے اسے آزمائش میں نہ ڈالا جائے۔چنانچہ آپ صلی علی ایم نے اس سے اعراض کیا اور اسے اجازت دے دی۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی کہ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَقُولُ الذَنَ لِي وَلَا تَفْتِنِي آلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطَوْا - وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌ بِالْكَفِرِينَ (التوبة: 49) اور ان میں سے وہ بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈال۔خبر دار وہ فتنہ میں پڑ چکے ہیں اور یقینا جہنم کا فروں کو ہر طرف سے گھیر لینے والی ہے۔مدینے کے ایک یہودی کا نام سُوَيْلَم تھا۔وہ مدینہ کے علاقے جاسُوم میں مقیم تھا جس کو بئرِ جاسم بھی کہتے ہیں۔یہ مدینے میں شام کی سمت آبو الْهَيْشَم بن نیکان کا کنواں تھا۔اس کا پانی بہت عمدہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس پانی کو پیا اور پسند فرمایا۔اس یہودی کا گھر منافقوں کا گڑھ تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر ملی کہ منافقین وہاں اکٹھے ہو رہے