خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 49
خطبات مسرور جلد 17 49 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2019 ایک ٹیلے کے پاس اپنے اونٹ بٹھائے جو ایک گھاٹ کے قریب تھا۔پھر انہوں نے اپنی مشکیں لیں اور گھاٹ پر پانی لینے آئے۔ایک شخص مَجْدِی بن عَمْرو جُهَنِی گھاٹ کے پاس کھڑا تھا۔ان دونوں اصحاب نے دو عورتوں سے سنا کہ ایک عورت نے دوسری سے کہا کہ کل یا پرسوں قافلہ آئے گا تو میں ان کی مزدوری کر کے تیرا قرض اتار دوں گی۔اب یہ باتیں دو عور تیں کر رہی ہیں لیکن اس میں معلومات تھیں۔مجدی نے کہا تو ٹھیک کہتی ہے۔پھر وہ ان دو عور توں کے پاس سے چلا گیا، وہاں سے ہٹ کے چلا گیا۔حضرت عدی اور حضرت بسبس نے یہ باتیں سنیں۔یہ دونوں جب گئے تو ان دونوں نے عورتوں کی یہ باتیں سن لی تھیں انہوں نے آکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔(کتاب المغازى جلد اوّل صفحه 40 باب بدر القتال مطبوعه عالم الكتب بيروت 1984ء) یعنی کہ یہ بات ہم نے سنی ہے کہ دو عور تیں باتیں کر رہی تھیں کہ ایک قافلہ آئے گا اور یہ کفار کے قافلے کی خبر تھی تو اس طرح یہ لوگ معلومات پہنچایا کرتے تھے۔بظاہر دیکھنے میں تو دو عور تیں ہی باتیں کر رہی ہیں لیکن اس کی اہمیت کا ان کو اندازہ نہ تھا اور یہ بڑی اہم خبر تھی، قافلے کی آمد کی اطلاع مل رہی تھی۔حضرت عدی بن ابی زغباء نے حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں وفات پائی۔(اصابه جلد 4 صفحه 391-392 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) پھر ایک صحابی ہیں حضرت ربیع بن ایاس۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو کو ذَان سے تھا۔غزوہ بدر میں اپنے بھائی ورقہ بن ایاس اور عمرو بن ایاس کے ساتھ شامل ہوئے اور غزوہ احد میں بھی آپ شامل ہوئے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 416-417 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)(کتاب المغازى جلد اوّل صفحه 167 باب تسمية من شهد بدرا من قريش والانصار مطبوعه عالم الكتب بيروت 1984ء) پھر ایک صحابی ہیں جن کا نام حضرت عُمیر بن عَامِر أَنْصارِی ہے۔ان کی کنیت ابو داؤد تھی اور ان کے والد عامر بن مالك تھے۔حضرت عُمیر کے والد کا نام عامر بن مالک تھا۔آپ کی والدہ کا نام نائلہ بنت ابی عاصم تھا۔حضرت عُمیر کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج سے تھا۔حضرت عُمیر اپنی کنیت ابو داؤد سے زیادہ مشہور ہیں۔غزوہ بدر اور غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل تھے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 393 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (الاصابة في تمييز الصحابة جلد 4 صفحه 598 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) حضرت ام عمارہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابو داؤد مازنی یعنی حضرت عُمیر اور حضرت سُلَيْط بن عمرو دونوں بیعت عقبہ میں حاضر ہونے کے لئے نکلے تو انہیں معلوم ہوا کہ لوگ بیعت کر چکے ہیں۔اس پر انہوں نے بعد میں حضرت اسعد بن زرارة کے ذریعہ سے بیعت کی جو عقبہ کی رات نقباء میں سے تھے۔(الاصابة في تمييز جلد 7 صفحہ 199 بو داؤد الانصارى المازني مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) ایک نقیب مقرر کئے گئے تھے۔سردار مقرر کئے گئے تھے۔ان کے ذریعہ سے پھر انہوں نے بیعت کی۔ایک روایت کے مطابق غزوہ بدر میں ابُو الْبَخْتَرِی کو قتل کرنے والے حضرت عُمیر بن عامر تھے۔(اسد الغابه جلد 6 صفحه 92 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء)