خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 641 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 641

خطبات مسرور جلد 17 641 بھی عمل کرے گا وہ اسے ضرر نہیں پہنچائے گا۔یہ بات آپ نے دو مر تبہ فرمائی۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06دسمبر 2019 (سنن الترمذى كتاب المناقب باب في عد عثمان تسمية شهيدا۔۔۔الخ حديث 3700-3701) (شرح العلامة الزرقاني على المواهب اللدنية جل4 صفحه 68-69 ، غزوة تبوك، دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) حضرت ابو عقیل ایک صحابی تھے ان کے پاس غزوہ میں دینے کے لیے کچھ نہیں تھا تو انہوں نے یہ ترکیب سوچی کہ ایک جگہ رات کو اجرت پر کام کر کے ، مزدوری پہ کام کر کے کھیت کو پانی لگانے کا معاملہ ایک شخص سے طے کیا اور ساری رات رسی کھینچ کھینچ کر کنویں سے پانی نکالتے رہے اور کھیت کو سیراب کرتے رہے۔اس کے بدلے میں ان کو دو صاع یعنی تقریباً چار پانچ کلو کھجوریں ملیں۔انہوں نے آدھی اس میں سے اپنے بیوی بچوں کے لیے دے دیں اور آدھی لے کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے اس موقع پر اپنا نصف مال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جس کی مالیت چار ہزار چار سو درہم تھی۔جب حضرت عاصم بن عدی نے سو وسق، (ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں اور ایک صاع اڑھائی کلو کا، کچھ کم اڑھائی سیر کا ہوتا ہے) کھجوریں پیش کیں تو منافقوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ ریاکاری ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی۔اس بارے میں یہ بھی بتا دوں کہ تقریباً یہ کھجوریں جو حضرت عاصم نے پیش کیں چودہ ہزار کلو یا چودہ ٹن بنتی ہیں تو اسی پہ منافقوں نے کہا کہ دکھاوا ہے۔یہاں یہ بھی وضاحت کر دوں گذشتہ خطبے میں میں نے غلطی سے ایک calculation میں چھ سو کلو کھجور کا کہا تھا وہ چھے سو نہیں چھ ہزار کلو تھی۔بہر حال جب منافقوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ ریا کاری ہے تو اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ میں یہ آیت نازل فرمائی الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَوَعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَتِ وَالَّذِيْنَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (التوبة: 79) کہ وہ لوگ جو مومنوں میں سے دلی شوق سے نیکی کرنے والوں پر صدقات کے بارے میں تہمت لگاتے ہیں اور ان لوگوں پر بھی جو اپنی محنت کے سوا اپنے پاس کچھ نہیں پاتے۔پس وہ ان سے تمسخر کرتے ہیں اللہ ان کے تمسخر کا جواب دے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب مقدر ہے۔(أسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 6 صفحه 215 ، ابو ،عقیل دارالکتب العلميه بيروت لبنان) (لغات الحدیث جلد چهارم صفحه 487 "وسق لغات الحدیث جلد دوم صفحه 648 ”صاع) یہ ان منافقوں کے لیے یا ان لوگوں کے لیے ہے جو ایسے الزام لگانے والے ہیں۔بہر حال یہ حضرت ھلال بن امیہ کے ضمن میں یہ بات آئی، بیان ہوئی۔ابھی حضرت بلال بن امیہ کے ذکر کا کچھ اور بھی حصہ ہے جو ان شاء اللہ تعالی آئندہ بیان ہو گا۔اس وقت شعبہ وقف نو کی طرف سے ایک اعلان بھی ہے کہ انہوں نے وقف نو کی waqfenauintl۔org کے نام سے ایک ویب سائٹ بنائی ہے جس کا آج ان شاء اللہ اجرا بھی ہو گا۔اس ویب سائٹ پر والدین اپنے ہونے والے بچے کو وقف ٹو میں شامل کرنے کے لیے لکھے گئے خطوط کے متعلق اور ان کے جوابات کے متعلق شعبہ سے