خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 640
خطبات مسرور جلد 17 640 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06دسمبر 2019 گھر کی طرف بھاگ رہا تھا تو کوئی اپنے اثاثے اکٹھے کر رہا تھا اور اپنے آقا کے حضور زیادہ سے زیادہ دینے کے لیے کوشش کر رہا تھا۔بہر حال کوئی اپنے مکانوں کی تلاشی لے رہا تھا کہ کچھ ملے تو میں اس کے ذریعہ سے غزوے میں شامل ہوں اور پیدل چلنے کے لیے بھی لوگ تیار تھے بلکہ بعض لوگوں کے پاس تو جو تیاں نہیں تھیں۔ایسے لوگ جو تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں پیدل چلنے کے لیے جو تیاں ہی مل جائیں تو ہم پیدل چلنے کو بھی تیار ہیں۔اگر ہمارے ننگے پیر ہیں تو ہمیں بالکل نہیں کہ ہمارے پیر زخمی ہو جائیں گے اور ہم پہنچ نہیں سکیں گے۔اس وقت وہ حالت تھی کہ ان کو وہ بھی مہیا نہیں ہو سکتی تھیں۔بہر حال ہر ایک اپنی اپنی جگہ اپنی جان کے نذرانے پیش کرنے کے لیے تیار تھا۔حضرت عمر کو خیال تھا کہ آپ کے گھر میں کافی مال ہے۔چنانچہ انہوں نے سوچا کہ حضرت ابو بکر سے سبقت لے جانے کا آج موقع ہے تو آپ نے اپنا آدھا مال لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رکھ دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ آدھا مال لایا ہوں اور آدھا چھوڑ آیا ہوں۔حضرت ابو بکر نے اپنا سارا سامان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کر دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پوچھا کہ اپنے گھر کے لیے کیا چھوڑ کے آئے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمرؓ نے اس وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رشک کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں حضرت ابو بکر سے کسی شے میں کبھی سبقت نہیں لے جاسکتا۔(سنن الترمذى كتاب المناقب باب رجاؤه ان يكون ابوبكر ممن يدعى۔۔۔الخ حديث 3675) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس واقعہ کا تذکرہ بیان کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روپیہ کی ضرورت بتلائی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر کا کل اثاث البيت لے کر حاضر ہو گئے۔آپ نے پوچھا ابو بکر اگھر میں کیا چھوڑ آئے تو جواب میں کہا اللہ اور اس کا رسول اللہ اور رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نصف لے آئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا عمر گھر میں کیا چھوڑ آئے تو جواب دیا کہ نصف " حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اس پر "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو بکر و عمر کے فعلوں میں جو فرق ہے وہی ان کے مراتب میں فرق ہے۔" (ملفوظات جلد دوم صفحہ 95) حضرت ابو بکر نے غزوہ تبوک کے موقع پر اپنا جو کل مال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا اس کی مالیت اس موقع پر چار ہزار درہم تھی۔(شرح العلامة الزرقاني على المواهب اللدنية جلد 4 صفحه 69 ثم غزوة تبوك، دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) حضرت عثمانؓ نے بھی اونٹوں اور گھوڑوں اور نقد کی قربانی پیش کی تھی۔اس قربانی کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا کہ اس عمل کے بعد اب عثمان کے کسی عمل پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ایک دوسری روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج کے دن کے بعد عثمان جو