خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 639 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 639

خطبات مسرور جلد 17 639 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06دسمبر 2019 طرف حضرت شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔حضرت شعیب علیہ السلام مدین کے رہنے والے تھے اور آپ ئدین کے ساتھ اَصْحاب الائیگہ کی طرف بھی مبعوث ہوئے تھے۔(معجم البلدان جلد دوم صفحه 17 دار الكتب العلميه بيروت) اور مدینے سے اس کا فاصلہ کم و بیش پونے چار سو میل ہے۔غزوہ تبوک کے اور نام بھی ہیں اس کو غَزْوَةُ الْعُسْرَة يَا جَيْشُ الْعُسْرَة بھی کہتے ہیں یعنی تنگی والا غزوہ اور تنگی والا لشکر۔غَزْوَةُ الْفَاضِحَة بھی کہتے ہیں وہ جنگ جو منافقین کو ذلیل ورسوا کرنے والی تھی۔(شرح العلامة الزرقاني على المواهب اللدنية جلد 4 صفحه 66 ثم غزوة تبوك، دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد سب سے پہلا تبلیغی خط قیصر روما کو لکھا اور اس کو لکھ کر اس وقت بضری کا جو عیسائی گورنر حارث بن ابو شمر عنسانی تھا، کو یہ خط بھجوایا چنانچہ جب اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچا تو اس نے عداوت کا اظہار کیا اور مدینے پر حملہ کی دھمکی دی جس کی وجہ سے مدینے کے لوگوں کو ایک عرصے تک یہ توقع رہی کہ وہ کسی وقت مدینے پر حملہ کرے گا۔(ماخوذ از سیرت خاتم المنسین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 802) (ماخوذ از صحيح البخارى كتاب النكاح باب موعظة الرجل ابنته لحال زوجها حديث 4913) اس جنگ کی تیاری کا سبب یہ امر بنا کہ شام کے نبطی قبیلہ کے لوگ جو تیل کی تجارت کے لیے مدینہ سفر کرتے تھے ان کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی کہ قیصر روم کا ایک لشکر قیصر کے ساتھ ملک شام میں اکٹھا ہوا ہے اور ایک دوسری روایت کے مطابق عرب کے عیسائیوں نے قیصر کی طرف لکھا کہ یہ شخص جو مدعی نبوت ہے یہ ہلاک ہو گیا ہے (نعوذ باللہ) تو مسلمانوں کو قحط نے آلیا ہے جس کے نتیجے میں ان کے جانور ہلاک ہو گئے ہیں۔اس پر قیصر نے ایک عظیم سپہ سالار کی قیادت میں کئی قبائل کے جنگجوؤں پر مشتمل چالیس ہزار سپاہیوں کا ایک لشکر جرار تیار کیا جو بلقاء (جو ملک شام کا ایک شہر ہے) کے مقام پر جمع ہوا۔اس خبر میں بہر حال کسی قسم کی صداقت نہیں تھی لیکن یہ خبر جو تھی وہ جنگ کی تیاری کا سبب بن گئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ملی اس وقت لوگوں میں طاقت نہیں تھی تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں کوچ کا اعلان کروایا اور انہیں اس جگہ کے بارے میں آگاہ کر دیا جس طرف سفر کرنا تھا تا کہ وہ اس کے لیے تیاری کر سکیں۔یہ شرح علامہ زرقانی میں لکھا ہے۔(شرح العلامة الزرقاني على المواهب اللدنية جلد 4 صفحه 67-68 ، ثم غزوة تبوك، دار الكتب العلمية بيروت 1996ء)(لغات الحدیث جلد 1 صفحہ 174) صحابہ کا ایثار اور منافقوں کی سازشیں بھی اس میں ظاہر ہوئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوے کے لیے تیاری کا اعلان فرمایا ہی تھا کہ مدینے میں ایک گہما گہمی شروع ہو گئی۔جو صحابہ وسائل رکھتے تھے وہ اپنی استطاعت کی انتہائی حدوں تک قربانیاں پیش کر رہے تھے۔جو مجبور تھے ان کا جوش و جذبہ اس قدر عروج پر تھا کہ سینکڑوں میل کے سفر کے لیے پا پیادہ چلنے پر آمادہ تھے اور تیار تھے۔اس مہم میں وسائل پیش کرنے کے لیے کوئی