خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 638 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 638

خطبات مسرور جلد 17 638 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06دسمبر 2019 انصار پر تو بہ قبول کرتے ہوئے جھکا جنہوں نے تنگی کے وقت اس کی پیروی کی تھی، بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک فریق کے دل ٹیڑھے ہو جاتے۔پھر بھی اس نے ان کی توبہ قبول کی یقیناوہ ان کے لیے بہت ہی مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔بہر حال کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اس کے بعد کہ اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دی، کبھی بھی اس نے کوئی انعام میرے نزدیک اس سے بڑھ کر نہیں کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ سچ بیان کر دیا۔کہتے ہیں کہ شکر ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ نہیں بولاور نہ میں ہلاک ہو جاتا جیسا کہ وہ لوگ ہلاک ہو گئے جنہوں نے جھوٹ بولا تھا۔پھر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنے والوں کے بارے میں نہایت ہی نفرت آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں جو اس نے کسی کے لیے استعمال کیے ہوں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا جب تم ان کی طرف لوٹو گے وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے۔اللہ ان بد عہد لوگوں سے کبھی خوش نہیں ہو گا۔حضرت کعب کہتے تھے کہ ہم تینوں کا فیصلہ ان لوگوں کے فیصلے سے زیادہ مؤخر رکھا گیا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر قبول کیا تھا۔جب انہوں نے آپ کے سامنے قسمیں کھائیں اور آپ نے ان سے بیعت لی اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے فیصلے کو ملتوی کر دیا یہاں تک کہ اللہ نے اس کے متعلق فیصلہ فرمایا۔سو وہ یہی بات ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ وَعَلَى الثَّلَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا (التوبة: 118) کہتے ہیں کہ یہ غزوہ سے ہمارا پیچھے رہنا نہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ تین جو پیچھے رہ گئے تھے۔اس سے مراد ہمارا غزوے سے پیچھے رہنا نہیں تھا بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ کے فیصلے سے ہمیں ان لوگوں سے پیچھے رکھا گیا تھا۔اس سے یہ مراد ہے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسمیں کھائی تھیں یعنی ہم ان قسمیں کھانے والوں سے اور جھوٹ بولنے والوں سے علیحدہ تھے۔یہ اس کا مطلب ہے نہ یہ کہ جنگ سے پیچھے رہ گئے۔بہر حال کہتے ہیں کہ یہ غزوہ سے ہمارا پیچھے رہنا نہیں تھا بلکہ اللہ کے فیصلے سے ہمیں ان لوگوں سے پیچھے رکھنا مراد ہے کہ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسمیں کھائی تھیں اور آپ کے پاس معذرتیں کی تھیں اور آپ نے ان کی معذرت قبول کر لی تھی۔(صحیح بخاری کتاب المغازى بَابُ حَدِيثُ كَعْب بن مالك حديث 4418) (فرہنگ سیرت صفحہ 153 مطبوعہ زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی) حضرت ھلال بن امیہ امیر معاویہ کے دور حکومت میں فوت ہوئے تھے۔(الاصابه في تمييز الصحابه الجزء السادس صفحه 428 هِلال بن أُمَيَّة دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2005ء) غزوہ تبوک کے بارہ میں ایک اور مختصر نوٹ بھی ہے وہ بھی پڑھ دیتا ہوں۔پہلے بتا بھی چکا ہوں ایک دفعہ مزید مختصر دوبارہ بیان کر دیتا ہوں کہ تبوک مدینے سے شام کی اس شاہراہ پر واقع ہے جو تجارتی قافلوں کی عام گزر گاہ تھی اور یہ وادی القری اور شام کے درمیان ایک شہر ہے۔اسے اصحابُ الْآئیگہ کا شہر بھی کہا گیا ہے جن کی