خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 637 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 637

خطبات مسرور جلد 17 637 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06دسمبر 2019 جب فجر کی نماز پڑھ چکے تو آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ اللہ نے مہربانی کر کے ہماری غلطی کو معاف کر دیا ہے۔یہ سن کر لوگ ہمیں خوش خبری دینے لگے اور میرے دونوں ساتھیوں کی طرف بھی خوش خبری دینے والے گئے یعنی حضرت ھلال اور دوسرے ساتھی کی طرف اور ایک شخص میرے پاس گھوڑا دوڑاتے ہوئے آیا۔اسلم قبیلے کا ایک شخص دوڑا آیا اور پہاڑ پر چڑھ گیا اور اس کی آواز گھوڑے سے زیادہ جلدی پہنچنے والی تھی۔جب وہ شخص میرے پاس بشارت دینے آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتارے اور اس کو پہنائے اس لیے کہ اس نے مجھے بشارت دی تھی۔اور اللہ کی قسم ! اس وقت اس کے سوا میرے پاس اور کچھ تھا نہیں۔جو میرے پاس اس وقت تھا وہ دو کپڑے تھے اور میں نے دو اور کپڑے عاریتاً لیے۔کسی سے مانگے پھر اور انہیں پہنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور لوگ مجھے فوج در فوج ملتے اور توبہ کی قبولیت کی وجہ سے مجھے مبارک باد دیتے۔کہتے تھے کہ تمہیں مبارک ہو جو اللہ نے تم پر رحم کر کے توبہ قبول کی ہے۔حضرت کعب کہتے تھے کہ آخر میں مسجد پہنچا۔کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہیں اور آپ کے ارد گرد لوگ ہیں۔حضرت طلحہ بن عبید اللہ مجھے دیکھ کر میرے پاس دوڑے آئے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد دی۔مہاجرین میں سے ان کے سوا بخدا کوئی شخص بھی میرے پاس اٹھ کر نہیں آیا اور طلحہ کی یہ بات میں کبھی بھی نہیں بھولوں گا۔اور حضرت کعب کہتے تھے کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو السلام علیکم کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔پھر آپ نے فرمایا تمہیں بشارت ہو نہایت ہی اچھے دن کی، ان دنوں میں سے جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنا ہے جو تم پر گزرے ہیں۔کہتے تھے کہ میں نے پوچھا یار سول اللہ! کیا یہ بشارت آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تھے تو آپ کا چہرہ ایسا روشن ہو جاتا کہ گویا وہ چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم اس سے آپ کی خوشی پہچان لیا کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا تو میں نے کہا یار سول اللہ ! میں اس تو بہ کے قبول ہونے کے عوض اپنی جائیداد سے دست بردار ہوتا ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی خاطر صدقہ ہو گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جائیداد میں سے کچھ اپنے لیے بھی رکھو کیونکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔میں نے کہا اپنا وہ حصہ رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔میں نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ نے مجھے صدق کی وجہ سے نجات دی اور میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں ہمیشہ ہی سچ بولا کروں گا جب تک کہ میں زندہ رہوں گا کیونکہ میں اللہ کی قسم ! مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا کہ اللہ نے اس کو سچی بات کہنے کی وجہ سے اس خوبی کے ساتھ آزمایا ہو جس خوبی سے میری آزمائش کی ہے۔اس وقت سے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصل واقعہ بیان کیا میں نے آج تک عمد ا جھوٹ نہیں بولا اور پھر یہ کہتے ہیں کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ آئندہ بھی جب تک زندہ ہوں مجھے جھوٹ سے محفوظ رکھے گا۔پھر کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ وحی نازل کی اور اللہ نبی پر اور مہاجرین اور