خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 636 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 636

خطبات مسرور جلد 17 636 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 دسمبر 2019 ساتھ سختی کا معاملہ کر کے تمہیں الگ تھلگ چھوڑ دیا ہے اور تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے کسی ایسے گھر میں پیدا نہیں کیا جہاں ذلت ہو اور تمہیں ضائع کر دیا جائے۔تم ہم سے آکر ملو۔ہم تمہاری خاطر مدارات کریں گے۔کہتے ہیں جب میں نے یہ خط پڑھا تو میں نے کہا یہ بھی ایک آزمائش ہے۔میں وہ خط لے کر تنور کی طرف گیا اور اس میں اس کو ڈال دیا۔جب پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزریں تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لانے والا میرے پاس آرہا ہے۔اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے فرماتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے الگ ہو جاؤ۔میں نے پوچھا کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا کہ اس سے الگ رہو اور اس کے قریب نہ جاؤ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دونوں ساتھیوں کو بھی، دوسرے جو دوساتھی تھے ، ( حضرت حلال اور مرارہ ) ان کو نبھی ایسا ہی کہلا بھیجا۔کہتے ہیں میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور اس وقت تک انھیں کے پاس رہنا کہ اللہ اس معاملے میں کوئی فیصلہ کرے۔حضرت کعب کہتے تھے کہ پھر ھلال بن امیہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔جن صحابی کا میں یہ ذکر بیان کر رہا ہوں ان کی بیوی آئیں اور کہنے لگیں یارسول اللہ بھلال بن امیہ بہت بوڑھا ہے۔اس کا کوئی ملازم نہیں ہے۔اگر میں اس کی خدمت کروں تو آپ نا پسند تو نہیں فرمائیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ٹھیک ہے خدمت کرتی رہو۔کھانا پکانا، گھر کا کام کرناوہ کرتی رہو لیکن وہ تمہارے قریب نہ آئے۔کہنے لگی کہ اللہ کی قسم ! اس کو تو کسی بات کی تحریک ہی نہیں ہوتی۔اللہ کی قسم !وہ اس دن سے آج تک رورہا ہے۔اس نے کیا کہنا ہے۔جب سے اس کو سزا ملی ہے ، مقاطعہ ہوا ہے، جب سے اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہے وہ تو اس دن سے بیٹھا رو رہا ہے۔حضرت کعب کہتے ہیں کہ میرے بعض رشتے داروں نے مجھ سے کہا کہ تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیوی کے متعلق ایسی ہی اجازت لے لو جیسے حضرت بلال بن امیہ کی بیوی کو اس کی خدمت کرنے کی اجازت دی ہے۔اس کو مل گئی تو تمہیں بھی مل جائے گی۔میں نے کہا اللہ کی قسم ! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی اس بارے میں اجازت نہ لوں اور مجھے کیا معلوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کے بارے میں کیا جواب دیں۔حضرت ھلال تو بوڑھے آدمی ہیں اور میں جو ان آدمی ہوں۔اس کے بعد کہتے ہیں میں دس راتیں اور ٹھہرا رہا یہاں تک کہ ہمارے لیے پچاس راتیں اس وقت سے پوری ہوئیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنے سے منع کیا تھا۔جب پچاسویں رات کی صبح کو نماز فجر پڑھ چکا اور میں اس وقت اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر تھا اور اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے یعنی میری جان مجھ پر تنگ ہو چکی تھی اور زمین بھی باوجود کشادہ ہونے کے مجھ پر تنگ ہو گئی تھی تو اس اثنا میں میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر ، جو مدینہ کے شمالی جانب ایک پہاڑ کا نام ہے، وہاں چڑھ کر بلند آواز سے پکار رہا تھا کہ اسے کعب بن مالک ! تمہیں بشارت ! ہو ! کہتے ہیں میں یہ سن کر سجدے میں گر پڑا اور سمجھ گیا کہ مصیبت دور ہو گئی ہے۔اگر اس نے جو مجھے پکارا ہے، بشارت دی ہے تو یقینا میری بریت کا کوئی سامان ہو گیا ہے، مصیبت دور ہو گئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم