خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 635 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 635

خطبات مسرور جلد 17 635 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06دسمبر 2019 طرح کا مقاطعہ ہو گیا۔لوگ ان سے کترانے لگے جو ان لوگوں میں سے تھے جو آپ سے پیچھے رہ گئے تھے۔گویا کہ ہم سے بالکل نا آشنا ہیں۔اس بات پہ جب منع کر دیا گیا تو ہمارے سامنے نہیں آتے تھے ، ہم سے بچتے تھے جس طرح ہمیں جانتے ہی نہ ہوں یہاں تک کہ یہ زمین بھی مجھے اوپری نظر آنے لگی۔وہ نہ تھی جس کو میں جانتا تھا۔مدینے کی گلیاں یہ شہر یہ زمین میرے لیے بالکل اوپری ہو گئی۔یہ مجھے وہ چیز نہیں لگ رہی تھی جس کو میں پہلے جانتا تھا۔لگا لگتا تھا میں ایک نئی جگہ پر آگیا ہوں کیونکہ لوگ میرے سے کترا رہے تھے۔بہر حال کہتے ہیں کہ اس حالت پر پچاس راتیں رہے۔اور جو میرے دوسرے دو ساتھی تھے حضرت حلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع انہوں نے شدید شرمندگی محسوس کی اور ان کا تو یہ حال تھا کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر رونے لگے۔وہ حلال و غیرہ تو گھروں سے باہر ہی نہیں نکلے۔حضرت ھلال تو گھر میں رہے۔مستقل گھر میں رہتے تھے اور روتے تھے اور حضرت کعب کہتے ہیں کہ میں تو ان لوگوں میں زیادہ جوان تھا اور ان لوگوں سے مصیبت کو زیادہ برداشت کرنے والا تھا۔میں باہر بھی نکلتا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں شرکت کرتا تھا۔میں گھر میں بیٹھ کر روتا نہیں رہا۔ان کی طرح استغفار نہیں کرتارہا۔استغفار کرتا تھا لیکن ساتھ ہی میں باہر بھی نکلتا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں بھی شریک ہو تا تھا۔مسجد بھی آتا تھا۔بازاروں میں بھی پھر تا تھا مگر مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا تھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی جاتا تھا۔مسجد میں مجلس لگی ہوتی تھی تو وہاں بھی جاتا تھا۔آپ کو سلام کرتا تھا جبکہ آپ نماز کے بعد اپنی جگہ بیٹھے ہوتے اور اپنے دل میں کہتا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سلام کا جواب دینے میں اپنے ہونٹ ہلائے ہیں یا نہیں اور آپ کے قریب ہو کر نماز پڑھتا اور نظر چرا کر آپ کو دیکھتا اور جب نماز پڑھنے لگتا تو آپ میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ کی طرف توجہ کرتا تو آپ مجھ سے منہ پھیر لیتے۔جب لوگوں کی یہ درشتی مجھ پر طول پکڑ گئی تو میں چلا اور میں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باغ کی دیوار کو پھلانگا۔یہ میرے چچا کے بیٹے تھے اور مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے تھے۔کہتے ہیں میں نے ان کو السلام علیکم کہا۔پھر کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! انہوں نے مجھے سلام کا جواب تک نہ دیا۔میں نے کہا ابو قتادہ میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ؟ وہ خاموش رہے۔پھر ان سے پوچھا اور ان کو قسم دی تو وہ پھر خاموش رہے۔پھر تیسری دفعہ ان سے پوچھا اور انہیں قسم دی آنکھوں مگر انہوں نے پھر کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں کہ محبت رکھتے ہو یا نہیں رکھتے۔یہ سن کر میری آنا سے آنسو جاری ہو گئے۔میں وہاں سے دیوار پھلانگ کر پھر چلا آیا۔پھر حضرت کعب کہتے تھے کہ اس اثنا میں کہ میں مدینے کے بازار میں چلا جار ہا تھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اہل شام کے نبطیوں میں سے جو مدینہ میں غلہ لے کر بیچنے کے لیے آئے ہوئے تھے ایک نبطی کہہ رہا تھا کہ کعب بن مالک کا کون بتائے گا؟ یہ سن کر لوگ اس کو اشارے سے بتانے لگے۔جب وہ میرے پاس آیا تو اس نے غنسان کے بادشاہ کی طرف سے ایک خط مجھے دیا۔اس میں یہ مضمون تھا کہ اما بعد مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تمہارے