خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 634
خطبات مسرور جلد 17 634 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06دسمبر 2019 جس سے آپ مجھ پر راضی ہو گئے تو عنقریب اللہ آپ کو مجھ پر ناراض کر دے گا۔میں بیان کر کے ناراضگی سے بچ تو سکتا ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کسی نہ کسی وقت ظاہر ہو جائے گی اور وہ آپ کو بھی پتالگ جائے گی۔پھر کہتے ہیں کہ اگر میں آپ سے سچی بات بیان کروں گا جس کی وجہ سے آپ مجھ پر ناراض ہوں تو میں اس میں اللہ کے عفو کی امید رکھتا ہوں۔آپ سچی بات سے ناراض ہو جائیں گے لیکن میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے عفو کا سلوک کرے گا۔پھر حضرت کعب نے عرض کیا کہ نہیں اللہ کی قسم! میرے لیے کوئی عذر نہیں تھا کہ عذر بیان کروں۔اللہ کی قسم ! کوئی عذر نہیں تھا میں کبھی بھی ایسا تنومند اور آسودہ حال نہیں ہوا جتنا کہ اس وقت تھا جب آپ سے پیچھے رہ گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: اس نے سچ بیان کیا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ اٹھو یہاں تک کہ اللہ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ کرے۔یہاں میرے سامنے سے چلے جاؤ۔میں اٹھ کر چلا گیا اور بنو سلمہ میں سے بعض لوگ بھی اٹھ کر میرے پیچھے ہو لیے۔انہوں نے مجھے کہا کہ اللہ کی قسم ! ہمیں علم نہیں کہ تم نے اس سے پہلے کوئی قصور کیا ہو اور تم یہ بھی نہ کر سکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی بہانہ ہی بناتے جبکہ ان کے پیچھے رہنے والوں نے، بہت سارے لوگوں نے جو آئی لوگ تھے، آپ کے سامنے بہانے بنائے تھے۔جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمہارے لیے استغفار کر دینا ہی تمہارے اس گناہ بخشانے کے لیے کافی تھا۔کعب کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! یہ لوگ مجھے ملامت ہی کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ لوٹ جاؤں اور اپنے آپ کو جھٹلا دوں۔دوبارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس جاؤں اور عرض کروں کہ میں نے جو پہلے بات کی تھی وہ غلط تھی اور کوئی نہ کوئی عذر پیش کر دوں لیکن کہتے ہیں پھر میں نے ان لوگوں سے پوچھا، جو مجھے کہہ رہے تھے کہ تم نے غلط کیا کہ سچی بات بتادی، واپس جاؤ۔کہتے ہیں میں نے ان سے، ان لوگوں سے پوچھا جو مجھے بھڑ کانے والے تھے یا غلط کام کی طرف ابھارنے والے تھے کہ کیا میرے ساتھ کوئی اور بھی ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کا اقرار کیا ہو جیسی باتیں میں نے کی ہیں، سچ سچ بیان کر دیا ہو۔انہوں نے کہا کہ ہاں۔دو اور شخص ہیں انہوں نے بھی وہی کہا ہے جو تم نے کہا ہے اور ان کو بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔میں نے کہا وہ کون ہیں۔کہنے لگے کہ ایک تو مرارہ بن ربیع عمری ہیں اور دوسرے ھلال بن امیہ واقفی ہیں۔حضرت کعب کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے سے ایسے دو نیک آدمیوں کا ذکر کیا جو بدر میں شریک ہو چکے تھے۔ان دونوں میں میرے لیے نمونہ تھا۔جب لوگوں نے ان دونوں کا مجھ سے ذکر کیا تو میں ان کے پاس سے چل پڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے منع کر دیا۔جب یہ ذکر ہو گیا کہ ہاں دو شخص اور ہیں تب مجھے خیال آیا کہ یہ دونوں حقیقی نیک لوگ ہیں، بدر میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔اس لیے میں اب انھی کے ساتھ شامل ہوں گا۔کوئی غلط بہانہ نہیں کروں گا۔کہتے ہیں میں چلا گیا اور اس دوران میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے منع کر دیا یعنی ایک