خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 633 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 633

خطبات مسرور جلد 17 633 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06دسمبر 2019 نے تبوک پہنچنے سے قبل مجھے یاد نہ کیا، میرے بارے میں نہ پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے جب آپ نے پوچھا کہ کعب کہاں ہے ؟ بنو سلمہ میں سے ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ! اس کو اس کی دو چادروں نے اور اس کی اپنے دائیں بائیں مڑ کر دیکھنے نے روک رکھا تھا یعنی ایک تو شاید پیسہ آگیا ہے یا کوئی تکبر پیدا ہو گیا ہے اس لیے نہیں آسکا۔حضرت معاذ بن جبل نے یہ سن کر کہا کیا بُری بات ہے جو تم نے کہی ہے۔انہوں نے کہا نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! اس کے متعلق ہمیں اچھا ہی تجربہ ہے۔کعب کے بارے میں اب تک تو ہمارا تجربہ اچھا ہے۔نہ اس میں کوئی فخر ہے، نہ تکبر ہے ، نہ منافقت ہے۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے۔حضرت کعب بن مالک کہتے تھے کہ جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ آپ جو اس سفر پہ نکلے تھے واپس آرہے ہیں تو مجھے فکر ہوئی اور میں جھوٹی باتیں سوچنے لگا کہ کس بات سے کل آپ کی ناراضگی سے بچ جاؤں۔کوئی بہانہ کروں اور اپنے گھر والوں میں سے ہر ایک اہل رائے سے میں نے اس بارے میں مشورہ لیا، لوگوں سے بھی پوچھا کہ کیا بہانہ ہو۔جب یہ کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آن پہنچے تو میرے دل سے سارے جھوٹے خیالات کا فور ہو گئے۔سب بہانے نکل گئے۔سب جھوٹ نکل گئے اور میں نے سمجھ لیا کہ میں کبھی بھی آپ کے غصے سے ایسی بات سے بچنے والا نہیں جس میں جھوٹ ہو۔اس لیے میں نے آپ سے بیچ بیچ بیان کرنے کی ٹھان لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔جب آپ صلی للہ ہم کسی سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دور کعتیں نفل پڑھتے۔پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھ جاتے۔جب آپ نے یہ کیا تو پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آگئے۔جو نہیں گئے تھے وہ آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عُذر بیان کرنے لگے۔ہر ایک بہانے کرنے لگ گیا کہ اس کے نہ جانے کی کیا کیا وجہ تھی اور قسمیں کھانے لگے اور ایسے لوگ آتی (80) سے کچھ اوپر تھے جو اس قسم کی قسمیں کھا کر ، غلط بیانیاں کر کے بہانے کر رہے تھے۔انہوں نے اپنے عذر بیان کیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے ظاہری عذرمان لیے اور ان سے بیعت لی اور ان کے لیے استغفار کیا اور ان کا اندرونہ اللہ کے سپر د کیا۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے بظاہر تم یہ کہتے ہو تو مان لیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کے سامان کرے۔باقی یہ معاملہ میں اللہ کے سپر د کر تا ہوں۔پھر کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جب میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض شخص کی طرح مسکرائے۔میری طرف دیکھا مسکرائے لیکن اس طرح دیکھنا تھا جس طرح کہ ناراضگی ہوتی ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگے آؤ۔میں آیا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔آپ نے مجھ سے پوچھا کہ کس بات نے تمہیں پیچھے رکھا ہے ؟ ہمارے ساتھ کیوں نہیں سفر کیا؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی ؟ میں نے کہا ہاں اللہ کی قسم! میں ایسا ہوں کہ اگر آپ کے سوا دنیا کے لوگوں میں سے کسی اور کے پاس بیٹھا ہو تا تو میں سمجھتا ہوں کہ میں ضرور ہی اس کی ناراضگی سے عذر کر کے بیچ جاتا کیونکہ مجھے قوت بیان دی گئی ہے۔مجھے بڑے اچھے بہانے بنانے آتے ہیں میں بچ سکتا تھا مگر اللہ کی قسم ! میں جانتا تھا کہ اگر میں نے آج آپ سے کوئی ایسی جھوٹی بات بیان کی