خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 48

خطبات مسرور جلد 17 48 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری2019 پیدا ہوئے تو ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنی ران پر بٹھا لیا۔اس وقت حضرت ابواسید بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول ہو گئے۔حضرت ابواسید نے اشارہ کیا تو لوگ مُنذر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران پر سے اٹھا کر لے گئے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کام سے فراغت ہوئی تو دریافت فرمایا کہ بچہ کہاں گیا ؟ حضرت ابواسید نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم نے اس کو گھر بھیج دیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس کا نام کیار کھا ہے ؟ آبُو اُسید نے عرض کیا کہ فلاں نام رکھا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں۔اس کا نام مُنذر ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن اس بچے کا نام منذر رکھا۔یہ وہ منذر نہیں ہے جن کا ذکر ہو رہا ہے۔شارحین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بچے کا نام مُنْذِر رکھنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ حضرت ابواسید کے چا کا نام مُنذر بن عمر و تھا، وہی صحابی جن کا ذکر ہو ا جو بئر معونہ میں شہید ہوئے۔ابواسید کے چا کا نام تھا مُنذر بن عمرو۔یہ ابواسید کے چاتھے جو بئر معونہ میں شہید ہوئے تھے۔پس یہ نام تفاؤل کی وجہ سے رکھا گیا تھا کہ یہ بھی ان کے اچھے جانشین ثابت ہوں۔(صحيح البخارى كتاب الادب باب تحويل الاسم الى اسم احسن منه حديث 6191)(فتح الباری شرح صحيح البخارى كتاب المغازى جلد 7 صفحه 452 مطبوعه دار الريان للتراث القاهرة 1986ء) یہ بھی وجہ ہو گی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً اپنے پیاروں کے ناموں کو زندہ رکھنے کے لئے بھی ان کے قریبیوں کے نام ان کے نام پر رکھتے ہوں گے۔حضرت معبد بن عباد ایک صحابی تھے جن کی کنیت ابو حُمَيْضَہ تھی۔والد تھے عباد بن قُشَیر۔حضرت معبد بن عباد کا نام معبد بن عُبَادَة اور مَعْبَد بن عُمارہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ان کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سالم بن غنم بن عوف سے تھا ان کی کنیت ابو حُمَيْضَہ ہے۔بعض کے نزدیک آپ کی کنیت ابوخميصه اور ابو عُصیمہ بھی بیان کی گئی ہے۔غزوہ بدر اور غزوہ احد میں یہ شریک ہوئے تھے۔(اسد الغابه جلد 5 صفحه 211-212 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 408، 411 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر ایک صحابی ہیں حضرت عدی بن ابی رغباء انصاری۔ان کی ولدیت سنان بن سُبیع تھی۔آپ نے حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں وفات پائی۔حضرت عدی کے والد ابی زَغباء کا نام سنان بن سُبَيْع بن ثَعْلَبه تھا۔آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ جھینہ سے تھا۔غزوہ بدر اور احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل تھے۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه 11 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء ) ( الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 377 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حضرت بشبش بن عمرو کے ساتھ معلومات لانے کی غرض سے غزوہ بدر کے موقع پر ابوسفیان کے قافلے کی طرف بھیجا تھا۔یہ خبر لینے گئے یہاں تک چلتے گئے کہ سمندر کے ساحل کے قریب پہنچ گئے۔حضرت بَسْبَسُ بن عَمْرو اور حضرت عَدِى بن ابی زغباء نے بدر کے مقام پر