خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 632 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 632

خطبات مسرور جلد 17 632 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06دسمبر 2019 غزوے کا بھی ارادہ کرتے تھے تو آپ اس کو مخفی رکھ کر کسی اور طرف جانے کا اظہار کرتے تھے۔عمومی طور پر یہ ہو تا تھا کہ جو جنگی strategy ہے اس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک تو مخفی رکھا کرتے تھے دوسرے سفر بھی لمبا کیا کرتے تھے یا راستہ بدلتے تھے۔بہر حال کہتے ہیں کہ جب وہ غزوہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوے میں سخت گرمی کے وقت نکلے یعنی غزوہ تبوک میں اور آپ کے سامنے دور دراز کا سفر اور غیر آباد بیابان اور جو دشمن تھا بہت بڑی تعداد میں تھا۔آپ نے مسلمانوں کو ان کی حالت کھول کر بیان کر دی تا کہ وہ اپنے حملے کے لیے جو تیاری کرنے کا حق ہے تیاری کریں۔اس غزوے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز مخفی نہیں رکھی بلکہ بتادیا کہ فلاں جگہ ہم نے جانا ہے اور فلاں دشمن ہے اس لیے تیاری اچھی طرح کر لو۔کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس طرف کا بھی بتادیا جس طرف آپ جانا چاہتے تھے اور مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بکثرت تھے۔حضرت کعب کہتے تھے اور کوئی شخص بھی ایسانہ تھا جو غیر حاضر رہنا چاہتا ہو مگر وہ خیال کرتا کہ اس کا غیر حاضر رہنا آپ سے پوشیدہ رہے گاجب تک کہ اس سے متعلق اللہ کی وحی نازل نہ ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غزوہ اس وقت کیا کہ جب پھل پک چکے تھے اور سائے اچھے لگتے تھے یعنی موسم بھی گرم تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمانوں نے بھی سفر کی تیاری شروع کر دی۔کہتے ہیں کہ میں صبح کو جاتا تا میں بھی ان کے ساتھ سامان کی تیاری کروں، سفر کی تیاری کروں۔میں واپس لوٹتا اور کچھ بھی نہ کیا ہوتا۔ارادے سے تو نکلتا تھا لیکن شام کو واپس آجاتا اور تیاری نہیں ہوتی تھی۔میں اپنے دل میں کہتا کہ میں تیاری کر سکتا ہوں۔سامان میرے پاس موجود ہے۔بہر حال کہتے ہیں یہ خیال مجھے لیت و لعل میں رکھتار ہا یہاں تک کہ لوگوں نے تیاری کرلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح روانہ ہو گئے اور مسلمان بھی آپ کے ساتھ روانہ ہوئے اور میں نے اپنے سفر کی تیاری میں سے کچھ بھی نہ کیا تھا۔میں نے سوچا کہ آپ کے جانے کے ایک دن یا دو دن بعد تیاری کر لوں گا اور پھر ان سے جاملوں گا کیونکہ سفر کی سواری تو میرے پاس موجود تھی اور میں آسانی سے کر سکتا تھا۔بہر حال کہتے ہیں ان کے چلے جانے کے بعد دوسری صبح گیا کہ سامان تیار کر لوں مگر پھر واپس آگیا اور کچھ بھی نہ کیا۔پھر میں اگلے دن یعنی تیسرے دن گیا اور واپس لوٹ آیا اور کچھ بھی فیصلہ نہ کر سکا اور یہی حال رہا یہاں تک کہ لشکر تیزی سے سفر کرتے ہوئے بہت آگے نکل گیا۔میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ کوچ کروں اور ان کو پالوں اور کاش کہ میں ایسا کرتا مگر مجھے اس کی طاقت نصیب نہ ہوئی، میں کر نہیں سکا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد جب بھی میں ان لوگوں میں نکلتا اور ان میں چکر لگا تا تو مجھے یہ بات غمگین کر دیتی کیونکہ جو پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے اکثر میں ایسے ہی شخص کو دیکھتا جنہیں بوجہ نفاق کے حقارت سے دیکھا جاتا تھا۔کہتے ہیں جب میں مدینہ کی گلیوں میں نکلتا تو انھی لوگوں کو دیکھتا جن کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر تھا کہ ان میں نفاق پایا جاتا ہے یا کمزوروں میں سے ایسا شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے معذور ٹھہرایا تھایا معذور تھے یا ایسے لوگ جو بزدل تھے اور جن کے دل میں نفاق تھا۔بہر حال کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم