خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 631
خطبات مسرور جلد 17 631 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 دسمبر 2019 سکے تھے۔دوسرے دو صحابہ کعب بن مالک اور مُرارَة بن ربیع تھے۔ان کے بارے میں قرآن کریم میں یہ آیت بھی نازل ہوئی تھی کہ وَعَلَى الطَّلَقَةِ الَّذِينَ خُلِفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (التوبة: 118) اور ان تینوں پر بھی اللہ توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین ان پر باوجود فراخی کے تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں تنگی محسوس کرنے لگیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ نہیں مگر اسی کی طرف۔پھر وہ ان پر قبولیت کی طرف مائل ہوتے ہوئے جھک گیا تا کہ وہ تو بہ کر سکیں اور یقینا اللہ ہی بار بار توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔(أسدالغابة في معرفة الصحابة جلد 5 صفحه 381 هِلال بن أُمَيَّة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) غزوہ تبوک 19 ہجری میں ہوا تھا اور صحیح بخاری میں اس کے بارے میں ایک تفصیلی روایت بھی ہے جس میں ان تینوں صحابہ کے پیچھے رہ جانے کا تذکرہ بیان ہوا ہے۔حضرت کعب بن مالک کے پوتے عبد الرحمن اپنے والد عبد اللہ بن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت کعب جب نابینا ہو گئے تو وہ انہیں پکڑ کر لے جایا کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ میں نے حضرت کعب بن مالک ھو وہ واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔یہ جو لمبی روایت ہے یہ حضرت کعب کے حوالے سے ہے۔حضرت حلال بن امیہ جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے ان کا ذکر بیچ میں آجاتا ہے لیکن یہ ایک روایت ملتی ہے۔بہر حال وہ کہتے ہیں کہ حضرت کعب بن مالک کو وہ واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا جبکہ وہ پیچھے رہ گئے تھے یعنی تبوک کا واقعہ۔حضرت کعب نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی غزوے میں بھی پیچھے نہیں رہا جو آپ نے کیا ہو سوائے غزوہ تبوک کے۔ہاں غزوہ بدر میں بھی پیچھے رہ گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تھا جو اس جنگ سے پیچھے رہ گیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف قریش کے قافلے کو روکنے کے ارادے سے نکلے تھے مگر نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے بغیر اس کے کہ جنگ کی ٹھانی ہو ان کو دشمن سے ٹکر ا دیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقبہ کی رات میں بھی موجود تھا۔بدر کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ بدر میں بھی شامل نہیں ہوا تھا لیکن اس میں نہ شامل ہونے کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا تھا۔بہر حال کہتے ہیں جب ہم نے عقبہ میں اسلام پر قائم رہنے کا پختہ عہد و پیمان کیا تھا اور میں نہیں چاہتا کہ اس رات کے عوض مجھے بدر میں شریک ہونے کا موقع ملتا اگر چہ بدر لوگوں میں اس سے زیادہ مشہور ہے اور میری یہ حالت تھی کہ میں کبھی بھی اتنا تنو مند اور خوش حال نہیں تھا جتنا کہ اس وقت جبکہ میں آپ سے اس غزوہ میں پیچھے رہ گیا تھا یعنی تبوک کے۔کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اس سے پہلے کبھی بھی میرے پاس سواری کے اونٹ اکٹھے نہیں ہوئے تھے اور اس غزوے کے اثنا میں سواری کے دو اونٹ اکٹھے کر لیے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس