خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 628
خطبات مسرور جلد 17 628 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019 اس کو معجزہ قرار دے رہے ہیں۔اس لیے یہ کہنا کہ اس زہر کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی یہ ہر گز درست نہیں ہے۔باقی ذکر ان شاء اللہ آئندہ ہوں گے۔اس وقت میں دو مر حومین کا ذکر کرتا ہوں جن کے جنازہ غائب ان شاء اللہ نمازوں کے بعد میں پڑھاؤں گا۔پہلا ہے مکرم نصیر احمد صاحب جو مکرم علی محمد صاحب را جن پور کے بیٹے تھے۔21 نومبر 2019ء کو 63 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے پڑ دادا محمد دین صاحب کے ذریعہ سے ہوا تھا۔آپ تحصیل زیرہ ضلع فیروز پور کے ایک گاؤں ملسیاں کے رہنے والے تھے۔انہوں نے اپنے بھائی مکرم الہی بخش صاحب کے ساتھ 1907ء میں بذریعہ خط بیعت کی تھی اور پھر 1908ء کے جلسہ سالانہ قادیان پر حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی توفیق پائی۔یہ مرحوم نصیر صاحب جو ہیں ان کو راجن پور میں نائب امیر ضلع کے علاوہ نائب زعیم انصار اللہ اور صدر جماعت کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔پانچ وقت نماز باجماعت کے پابند تھے۔بڑا اہتمام کرتے تھے۔اُن کا جو ائنٹ فیملی سسٹم تھا اور گھر میں موجود تمام بھائیوں، بھتیجوں، بھتیجیوں کو نماز کے اوقات میں بار بار یاد دہانی کرواتے تھے۔فجر کے وقت پوری حویلی کا چکر لگاتے تھے۔بہت بڑی حویلی تھی۔اس میں یہ لوگ اکٹھے رہتے تھے۔مختلف گھر تھے۔سب کو نماز فجر کے لیے بیدار کرتے تھے۔تلاوت قرآن کریم خود بھی کرتے تھے اور لوگوں سے بھی اپنے رشتہ داروں سے بھی، جو بھی بچے وغیرہ تھے سب سے پوچھتے تھے اور شستی میں تلقین کرتے تھے کہ با قاعدہ کیا کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ خود بھی کرنے والے تھے اور اپنے بچوں کو اور رشتے داروں کو جو بھائی بھتیجے تھے ان کو بھی تلقین کیا کرتے تھے اور اسی طرح ایم ٹی اے پر خطبہ با قاعدہ سنتے اور پھر اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ سب نے، ان سب مکینوں نے جو ایک ہی حویلی میں رہتے ہیں خطبہ سن بھی لیا ہے کہ نہیں۔شدید مخالفت کے باوجود تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے اور اگر گھر والے احتیاط کا کہتے کہ حالات ایسے ہیں، احتیاط کریں تو ان کا جواب ہو تا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھاؤں گا کہ اس کے بھیجے ہوئے کا پیغام لوگوں تک نہیں پہنچایا۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے خالد احمد صاحب مربی سلسلہ ہیں جو آج کل مالی (مغربی افریقہ) میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں اور وہاں میدان عمل میں ہونے کی وجہ سے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔مغفرت کا سلوک فرمائے۔اور ان کی نسلوں کو بھی، اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسر اجنازہ مکرم عطاء الکریم مبشر صاحب ابن میاں اللہ دتہ صاحب کیر تو ضلع شیخو پورہ حال کینیڈا کا ہے۔13/ نومبر کو 75 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ۔مرحوم کے خاندان میں احمدیت آپ کے والد مکرم میاں اللہ دتہ صاحب کے ذریعہ آئی تھی جنہوں نے 1934ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ