خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 627 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 627

627 خطبات مسرور جلد 17 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019 واقعہ غزوہ خیبر کے موقع پر ہوا جو کہ چھ ہجری کے آخری یا سات ہجری کے آخری یاسات ہجری کے اوائل کا واقعہ ہے۔اور اس کے تقریباً چار سال بعد تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہے۔بھر پور زندگی گزاری۔اسی طرح جس طرح اس سے پہلے جنگوں میں بھی جاتے رہے۔عبادات اور دیگر معمولات میں بھی رتی بھر فرق نہیں آیا۔تقریباً چار سال بعد بخار اور سر درد کی کیفیت طاری ہونا اور اس کے بعد وفات پا جانا اس کو کوئی عقل مند یہ نہیں کہہ سکتا کہ زہر کی وجہ سے چار سال بعد اثر ہوا ہے۔اصل میں بخاری اور بعض دوسری کتب احادیث میں ایک حدیث ہے جس کے ترجمے کو درست نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ مفہوم نکالا جاتا ہے کہ گویا اسی زہر کی وجہ سے وفات ہوئی تھی حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔بخاری کی وہ حدیث یہ ہے، اس کا ترجمہ بیان کر دیتا ہوں کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں یوں فرماتے تھے کہ عائشہ ! اس کھانے کی تکلیف جو میں نے خیبر میں کھایا تھا مجھے ہمیشہ محسوس ہوتی رہی اور اب بھی اس زہر سے میں اپنی رگیں کٹتی ہوئی محسوس کر رہا ہوں۔(صحيح البخارى كتاب المغازي بَاب مَرَضِ النَّبي الله ووفاته حديث 4428) یہ وہ حدیث ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ بعض مسلمان مفسرین بھی اور محد ثین بھی یہی کہتے ہیں کہ گویا اسی تکلیف کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی۔اور پھر اسی کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بھی تشریح کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وجہ سے شہید بھی قرار دیا جا سکتا ہے یا بعض کے نزدیک دیا جاتا ہے۔جبکہ یہ روایت اس بات کی تائید نہیں کرتی۔اس میں صرف ایک تکلیف کا اظہار ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا اور ہر کوئی جانتا ہے کہ بعض اوقات کوئی جسمانی تکلیف یاز خم یا بیماری کبھی کبھی خاص خاص موقعوں پر کسی سبب سے باہر آجاتی ہے۔خیبر کے موقعے پر جو زہر اور گوشت آپ نے کھایا اس کے متعلق روایات کی تفصیل میں جائیں تو یہ بھی ملتا ہے کہ زہر ملا ہوا یہ گوشت آپ نے منہ میں ڈال لیا تھا لیکن نگلا نہیں تھا۔لیکن اگر نگلا بھی تھا تو آپ کی بھر پور زندگی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ وفات کی وجہ بہر حال یہ نہیں تھی۔ہاں اس زہر کی وجہ سے معدے کو یا انتڑیوں کو جو نقصان پہنچا تھاوہ بیماری میں زیادہ ہو گیا اور یہ قدرتی بات ہے بعض دفعہ اس طرح ہو جاتا ہے اور منہ میں جانے کی وجہ سے آپ کے حلق یا کوے پر زخم آگیا تھا اور کبھی کبھی کھانے کے دوران اس میں تکلیف محسوس فرماتے تھے۔احادیث میں یہ واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور اس میں یہ بھی لکھاہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو گیا تھا کہ اس میں زہر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کھانے سے روک دیا تھا اور زہر ملانے والی عورت کو بلا کر پوچھا تو اس نے بتایا کہ ہم نے اس لیے زہر ملایا تھا کہ اگر آپ خدا کی طرف سے سچے رسول ہیں تو آپ بچ جائیں گے ورنہ ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی۔یہودی تو اس کو دیکھنے کے بعد آپ کے بچنے کا اعلان کر رہے ہیں اور اس عورت کا تو یہ تھا کہ اتنا خطرناک زہر تھا پھر بھی آپ بچ گئے تو آپ کے بیچ جانے کی وجہ سے بعض روایات میں تو اس عورت کے اسلام قبول کر لینے کا بھی ذکر ملتا ہے۔جو بھی ہو وہ یہودی تو اس زہر سے نہ مرنے کا اقرار کر رہے ہیں اور