خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 626 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 626

خطبات مسرور جلد 17 626 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019 مراد ہے۔یہ محاورہ بولا گیا ہے۔پھر آگے آپ فرماتے ہیں کہ اس پر بشیر نے کہا یعنی بشر بن براء نے کہ جس خدا نے آپ کو عزت دی ہے اس کی قسم کھا کر میں کہتا ہوں کہ مجھے بھی اس لقے میں زہر معلوم ہوا ہے۔میرا دل چاہتا تھا کہ میں اس کو پھینک دوں لیکن میں نے سمجھا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو شاید آپ کی طبیعت پر گراں نہ گزرے اور آپ کا کھانا خراب نہ ہو جائے۔تسلی مجھے نہیں تھی لیکن مجھے لگ رہا تھا کہ کچھ ہے اور جب آپ نےوہ لقمہ نگلا تو میں نے بھی آپ کی تنتج میں نگل لیا۔گومیر اول یہ کہہ رہا تھا کہ چونکہ مجھے شبہ ہے کہ اس میں زہر ہے اس لیے کاش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لقمہ نہ نگلیں۔اس کے تھوڑی دیر بعد بشیر کی طبیعت خراب ہو گئی اور بعض روایتوں میں تو یہ ہے کہ وہ وہیں خیبر میں فوت ہو گئے اور بعض میں یہ ہے کہ اس کے بعد کچھ عرصہ بیمار رہے اور اس کے بعد فوت ہو گئے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ گوشت اس کا ایک کتے کے آگے ڈلوایا جس کے کھانے سے وہ کتا مر گیا۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلایا اور فرمایا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے۔اس نے کہا کہ آپ کو یہ کس نے بتایا ہے۔آپ کے ہاتھ میں اس وقت بکری کا دست تھا۔آپ نے فرمایا اس ہاتھ نے مجھے بتایا ہے۔اس پر اس عورت نے سمجھ لیا کہ آپ پر یہ راز کھل گیا ہے اور اس نے اقرار کیا کہ اس نے زہر ملایا ہے۔اس پر آپ نے اس سے پوچھا کہ اس ناپسندیدہ فعل پر تم کو کس بات نے آمادہ کیا۔اس نے جواب دیا کہ میری قوم سے آپ کی لڑائی ہوئی تھی اور میرے رشتے دار اس لڑائی میں مارے گئے تھے۔میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں اُن کو زہر دے دوں۔اگر ان کا کاروبار انسانی کاروبار ہو گا تو ہمیں ان سے نجات حاصل ہو جائے گی اور اگر یہ واقعی میں نبی ہوں گے تو خدا تعالیٰ ان کو خود بچالے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن کر اسے معاف فرما دیا اور اس کی سزا جو یقینا قتل تھی اسے نہ دی۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اپنے مارنے والوں اور اپنے دوستوں کے مارنے والوں کو بخش دیا کرتے تھے اور در حقیقت اسی وقت آپ سزا دیا کرتے تھے جب کسی شخص کا زندہ رہنا آئندہ بہت سے فتنوں کا موجب ہو سکتا تھا۔(ماخوذ از دیباچہ تفسیر القرآن ، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 327 تا 329) بہر حال یہ ایک عام تاثر ہے۔بعض دشمن یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس زہر سے ہوئی تھی اور تاریخ وسیرت کی بعض کتب نے بھی یہ بحث اٹھائی ہے اور بعض سیرت نگار اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شہادت کا مقام دینے کے لیے ان روایات کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں جن میں یہ ذکر ہے کہ اس زہر کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی جبکہ حقیقت میں یہ بات درست نہیں ہے۔اس پر ہمارے ریسرچ سیل نے بھی ایک نوٹ مجھے بھیجا تھا۔وہ بھی ایسا ہے کہ میں یہاں سنا دیتا ہوں۔اس کے مطابق وہ کہتے ہیں کہ تاریخ اور سیرت کی کتب ہوں یا حدیث کی، ایک بات مسلم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہر گز اس زہر کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی۔جو کوئی ایسا کہتا ہے اول تو وہ ان تمام تر روایات کا علم نہیں رکھتا یا وہ غلطی خوردہ ہے۔واضح رہے کہ زہر دیے جانے کا