خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 625
خطبات مسرور جلد 17 625 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019 کوئی بھی بنو سلمہ کا فوت ہونے والا شخص ہو تا تو آپ ان کے پاس جا کر کہتیں، ان کو سلام پہنچانا۔بنو سلمہ میں سے تھے۔پہلے شاید میں نے دشمن کی بات کی۔دشمنوں والی بات نہیں ہے۔وہ ان کا کہنے کا انداز ہے کہ بشر کی وفات بنو سلمہ کو ہلاک کر دے گی۔کیا مردے ایک دوسرے کو پہچان لیں گے۔یعنی بہت صدمہ ہے ہمارے لیے۔کیا بشر کی طرف سلام پہنچایا جاسکتا ہے ؟ اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔پھر آپ ہر فوت ہونے والے کے ذریعہ یہ پیغام دیتیں کہ وہاں جنت میں جاؤ گے تو سلام پہنچانا۔ایک روایت کے مطابق حضرت بشر کی بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت میں آپ کے پاس آئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا تمہارے بھائی کے ساتھ میں نے خیبر میں جو لقمہ کھایا تھا اس کی وجہ سے میں اپنی رگوں کو کتنا محسوس کرتا ہوں۔(السيرة الحلبية جلد3 صفحه 82 ، باب ذکر مغازية ميلا الله ، الم، غزوة خيبر دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) 6 اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے تفصیل بیان فرمائی ہے فرماتے ہیں کہ یہودی عورت نے صحابہ سے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جانور کے کس حصے کا گوشت زیادہ پسند ہے ؟ صحابہ نے بتایا کہ آپ کو دستی کا گوشت زیادہ پسند ہے۔اس پر اس نے بکرا ذبح کیا اور پتھروں پر اس کے کباب بنائے اور پھر اس گوشت میں زہر ملادیا خصوصاً بازوؤں میں جس کے متعلق اسے بتایا گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا گوشت زیادہ پسند کرتے ہیں اور پھر سورج ڈوبنے کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کی نماز پڑھ کر اپنے ڈیرے کی طرف واپس آرہے تھے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے خیمے کے پاس ایک عورت بیٹھی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ بی بی تمہارا کیا کام ہے ؟ اس نے کہا کہ اے ابو القاسم !میں آپ کے لیے ایک تحفہ لائی ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ساتھی صحابی سے فرمایا کہ جو چیز یہ دیتی ہے اس سے لے لو۔اس کے بعد آپ کھانے کے لیے بیٹھے تو کھانے پر وہ بھنا ہوا گوشت بھی رکھا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک لقمہ کھایا اور آپ کے ایک صحابی بشیر بن براء بن معرور نے بھی ایک لقمہ کھایا۔بہر حال تاریخ کی کتابوں میں حضرت بشر بن براء کا نام بعض جگہ بشیر بن براء بھی لکھا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے بشیر بن براء یہاں لکھا ہے مراد بشر بن براء ہی ہیں۔اتنے میں باقی صحابہ نے بھی گوشت کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مت کھاؤ کیونکہ اس ہاتھ نے مجھے خبر دی ہے کہ گوشت میں زہر ملا ہوا ہے۔یعنی اس کے معنی یہ نہیں کہ آپ کو الہام ہو ا تھا بلکہ یہ عرب کا محاورہ ہے۔معنی یہ ہیں کہ اس گوشت کو چکھ کر مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔پس اس جگہ یہ مراد نہیں ہے۔اس محاورے کے تحت ہی بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا آپ کا ہاتھ بولا تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کا گوشت چکھنے پر مجھے معلوم ہوا ہے۔چنانچہ اگلا فقرہ ان معنوں کی وضاحت کر دیتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ ہی اس کی تفصیل میں فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایک دیوار کے متعلق آتا ہے کہ وہ گرنا چاہتی تھی جس کے محض یہ معنی ہیں کہ اس میں گرنے کے آثار پیدا ہو چکے تھے۔پس اس جگہ بھی یہی