خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 624 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 624

خطبات مسرور جلد 17 624 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019 دشمن کے خلاف بر سر پیکار تھے ان سب پر اچانک گویا آسمان سے ایک چیز اتری ہے اور اس حالت نے اس کو ڈھانپ لیا۔اس وقت ان کو اس چیز کی سکون کی اپنے اعصاب کو ریفریش (Refresh) کرنے کی، ان کو تازہ دم کرنے کی شدید ضرورت تھی اور سونے کا وقت کوئی نہیں تھا اور جب ایسی حالت ہو جب ایسی تھکاوٹ کی حالت ہو تو ایسی حالت انسانوں پر طاری ہو جاتی ہے۔بہر حال ساری قوم بیک وقت ایک ایسی نیند کی حالت میں چلی جائے جبکہ لڑائی ہو رہی ہو اور دشمن سے سخت خطرہ بھی در پیش ہو یہ اعجاز ہے۔ایک معجزہ ہے۔یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔بعض لوگوں کے ساتھ ہو جاتا ہے یہ لیکن یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ایک معجزہ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص سکون کی کیفیت ان کو اس وقت عطا کی گئی تھی۔(ماخوذ از درس القرآن بیان فرمودہ حضرت خلیفة المسیح الرابع ) رمضان المبارک 17/ فروری1994ء صفحہ 106-111) حضرت بشر نے غزوہ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس زہر آلود بکری کا گوشت کھایا جو ایک یہودی عورت نے تحفۃ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا تھا۔جب حضرت بشر نے اپنا لقمہ نگلا تو اس جگہ سے ابھی ہٹے بھی نہ تھے کہ ان کا رنگ تبدیل ہو کر طیلسان ، یہ کپڑا ہے جس میں سیاہ رنگ زیادہ غالب ہو تا ہے ، اس کی طرح ہو گیا۔درد سے ایک سال تک یہ حالت رہی کہ بغیر سہارے کے کروٹ تک نہ بدل سکتے تھے۔پھر اسی حالت میں آپ کی وفات ہو گئی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹے بھی نہیں تھے ، زہر اتنازیادہ تھا کہ وہیں کھانے کے تھوڑی دیر بعد ہی ان کی وفات ہو گئی۔الطبقات الكبرى لابن سعد ا الجزء الثالث صفحه 291 ، بشر بن البراغ، دار احياء التراث العربي 1996ء) حضرت بشر بن بر او نے جب وفات پائی تو ان کی والدہ کو شدید دکھ ہوا۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایشر کی وفات بنو سلمہ کو ہلاک کر دے گی اور بنو سلمہ میں سے مرنے والے تو مرتے ہی رہیں گے۔کیا مردے ایک دوسرے کو پہچان لیں گے۔انہوں نے جو یہ حرکت کی ہے تو یہ حرکت کرنے والے تو ہلاک ہوں گے ، لیکن کیا مردے ایک دوسرے کو پہچان لیں گے ؟ کیا پشر کی طرف سلام پہنچایا جا سکتا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اے اتم بشر ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جیسے پرندے درختوں پر ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں ویسے ہی جنتی بھی ایک دوسرے کو پہچان لیں گے۔(سبل الهدى والرشاد جلد 3 صفحه 132، في تنبيهات على بعض فوائد تتعلق بقصة المعراج، دارالكتب العلمية بيروت 1993ء) مطلب یہ تھا کہ ان کو پہچان لیں گے تو جو فوت ہونے والے ہیں ان کے ہاتھوں میں سلام بھیج سکتی ہوں۔ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ قبیلہ بنو سلمہ کا کوئی بھی شخص جب وفات پانے والا ہو تا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو سننے کے بعد حضرت بشر کی والدہ اس کے پاس جا کر کہتیں کہ اے فلاں ! تجھ پر سلام تو وہ جواب میں کہتا تجھ پر بھی۔پھر وہ کہتیں کہ بشر کو میر اسلام کہنا۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح جلد 4 صفحه 99 كتاب الجنائز باب ما يقال عند من حضره الموت، دار الكتب العلمية بيروت 2001ء)