خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 623
خطبات مسرور جلد 17 623 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019 بہر حال ہو سکتا ہے کہ یہ ان کو محسوس ہوا ہو کہ گر گئی کیونکہ اس وقت ایسی حالت میں نیند تو تھی۔لیکن ان کے ہاتھوں میں جو ہتھیار تھے مضبوطی سے قائم ہوتے تھے یا گرنے لگتے تھے تو جھٹکا لگتا تھا۔بہر حال یہاں لفظ نعاس استعمال ہوا ہے اس کی جو وضاحت، تشریح ہے وہ اپنے ایک درس میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے بڑی تفصیل سے فرمائی تھی کہ آمَنَةً نُّعَاسًا مختلف پہلوؤں سے اس کے جو تراجم ہیں ان کا خلاصہ یہ معنی بنے گا کہ غم کے بعد تم پر ایسا سکون نازل فرمایا جسے نیند کہہ سکتے ہیں یا ایسی اونگھ عطا کی جو امن کی حامل تھی یا وہ امن دیا جو نیند کا سا اثر رکھتا تھا یا نیند میں شامل تھا۔یہ آمَنَةً نُعَاسًا کا یہ مطلب ہے۔اونگھ وقتی طور پر یوں سر جھکا کر غوطہ کھا جانے کو بھی کہتے ہیں لیکن یہاں نعاس کا معنی اس قسم کی اونگھ نہیں ہے بلکہ وہ کیفیت ہے جو بیداری اور نیند کے درمیان کی کیفیت ہوتی ہے۔سونے سے پہلے ایک بیچ کی ایسی منزل آتی ہے جہاں تمام اعصاب کو ایک سکون مل جاتا ہے اور وہی گہر اسکون ہے اگر وہ سکون اسی طرح جاری رہے تو پھر نیند میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ایسی حالت میں انسان اگر چل رہا ہے تو گرے گا نہیں۔گرنے سے پہلے اسے جھٹکا لگ جاتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ میں کس کیفیت میں تھا۔لیکن اگر نیند آجائے تو پھر اپنے اعصاب پر، اپنے اعضا پر کوئی اختیار نہیں رہتا۔بہر حال ہو سکتا ہے بشر بن براء کو اس حالت میں اس طرح کی گہری نیند بھی آگئی ہو۔لیکن باوجود جنگ کی حالت کے وہ تھی سکون کی کیفیت اور انسان گر جاتا ہے اور اگر اس کو صحیح بھی مانا جائے تو اسی وجہ سے ان کے ہاتھ ذرا ڈھیلے ہوئے تو تلوار گر گئی۔بہر حال یہ حالت ایسی ہوتی ہے جس میں فوری احساس بھی ہو جاتا ہے کہ میں گہری نیند میں جارہا ہوں اور پھر انسان جھٹکے سے جاگ جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں ایک ایسی سکون کی حالت عطا کی جو نیند سے مشابہ تھی مگر نیند کی طرح اتنی گہری نہیں تھی کہ تمہیں اپنے اوپر اپنے اعضاء پر کوئی اختیار نہیں رہے۔وہ سکینت تو بخش رہی تھی مگر تمہیں بے کار نہیں کر رہی تھی۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں اور یہ بخاری کی حدیث میں ہے کہ اُحد کے دن عین جنگ میں ہم کو اونگھ نے آدبایا اور یہ وہ اونگھ ہے جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ تلوار میرے ہاتھ سے گرنے کو ہوتی تھی۔میں تھام لیتا تھا۔پس یہ حدیث بتارہی ہے کہ ایسی نیند کی کیفیت نہیں تھی کہ ہاتھوں سے چیزیں نیچے جاپڑیں یا چلتے چلتے ہم گر جائیں۔تسکین تھی، سکینت تھی مگر پھر بھی ایک حد تک ہمیں اپنے اعضا پر اختیار حاصل تھا۔پھر گرنے کو ہوتی تھی تو پھر تھام لیتے تھے۔یعنی یہ اونگھ کا ایک حصہ کوئی اچانک یوں ہی نہیں آیا بلکہ یہ ایک کیفیت تھی جو ان لوگوں پر کچھ عرصہ چلتی رہی۔ترمذی ابواب التفسیر میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن میں سر اٹھا کر دیکھنے لگا تو ہر آدمی اونگھتے اونگھتے اپنی ڈھال کے نیچے جھک رہا تھا۔جاگنے کی وجہ سے یا تھکاوٹ کی وجہ سے ان صحابہ کی بہت بری حالت ہو گئی تھی اور ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سکون کی کیفیت مل رہی تھی۔کہتے ہیں یعنی ایسا ہی نظارہ ہوا کہ جو عام تھا۔کوئی اتفاقاً ایک تھکے ہوئے مجاہد کے اوپر اطلاق پانے والی کیفیت نہیں تھی۔بلکہ حضرت خلیفہ رابع نے لکھا ہے کہ تمام مجاہدین جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں