خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 47
خطبات مسرور جلد 17 47 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2019 تو ان میں سے ایک شخص حرام بن ملحان جو انس بن مالک کے ماموں تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دعوت اسلام کا پیغام لے کر قبیلہ عامر کے رئیس اور ابوبراء عامری جس کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کے بھتیجے عامر بن طفیل کے پاس گئے اور باقی صحابہ پیچھے رہے۔جب حرام بن ملحان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اٹیچی کے طور پر عامر بن طفیل اور اس کے ساتھیوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے شروع میں تو منافقانہ طور پر آؤ بھگت کی لیکن پھر جب وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور اسلام کی تبلیغ کرنے لگ گئے تو جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے بعض شریروں نے کسی آدمی کو اشارہ کیا اور اس نے پیچھے سے حملہ کر کے ان کو نیزہ مار کر وہیں شہید کر دیا۔اس وقت حرام بن ملحان کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ الله اكبر ا فزت ورب الكفتة یعنی اللہ اکبر کعبہ کے رب کی قسم میں تو اپنی مراد کو پہنچا۔عمرو بن طفیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی کے قتل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے بعد اپنے قبیلہ بنو عامر کے لوگوں کو اکسایا کہ وہ مسلمانوں کی بقیہ جماعت پر حملہ آور ہو جائیں مگر انہوں نے جیسا کہ ذکر ہوا اس کا انکار کیا لیکن جو زائد بات ہے اور یہاں ہوئی ہے۔انہوں نے یہ کہا کہ ہم ابوبراء کی ذمہ داری کے ہوتے ہوئے مسلمانوں پر حملہ نہیں کریں گے۔کیونکہ ابوبراء نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ میں ان کا ضامن ہوں۔تو اس قبیلے نے کہا کہ جب وہ ضامن ہو گیا تو ہم حملہ نہیں کریں گے۔اس پر عامر نے سُکیم میں سے بنو دغل اور ذکوان اور عصیہ وغیرہ کو جو دوسر اقبیلہ تھا اور جو بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد بن کر آئے تھے، اپنے ساتھ لیا اور یہ سب لوگ مسلمانوں کی اس قلیل اور بے بس جماعت پر حملہ آور ہو گئے۔مسلمانوں نے جب ان وحشی درندوں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو ان سے کہا کہ ہمیں تم سے کوئی تعرض نہیں۔ہم لڑنے تو آئے نہیں ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک کام کے لئے آئے ہیں اور تم سے بالکل لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور سب کو شہید کر دیا۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 517 تا 519) تاریخ میں آتا ہے کہ جب جبرئیل علیہ السلام نے بئر معونہ کے شہداء کے بارے میں خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مُنْذِر بن عمرو کے بارے میں فرمایا جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے کہ آغنَقَ لِيَمُوْتَ یعنی حضرت مُنذر بن عمرو نے یہ جانتے ہوئے کہ اب شہادت ہی مقدر ہے اپنے ساتھیوں کی طرح اسی جگہ لڑتے ہوئے شہادت کو قبول کر لیا اس وجہ سے آپ مُعْنِق لِيَمُوْتَ يَا مُعْنِقُ لِلْمَوْتِ کے لقب سے مشہور تھے۔الطبقات الكبرى جلد 2 صفحه 40 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 5 صفحه 258 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) حضرت مُنْذِر بن عمرو سے ان لوگوں نے کہا تھا کہ اگر تم چاہو تو ہم تمہیں امن دے دیں گے لیکن حضرت منذر نے ان کی امان لینے سے انکار کر دیا۔(اسد الغابه جلد 5 صفحه 25-259 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) حضرت سہل بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابواسید کے ہاں ان کے بیٹے مُنْذِر بن ابي أُسَيْد