خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 622
خطبات مسرور جلد 17 622 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019 مانگا کرتے تھے۔پس جب وہ ان کے پاس آگیا جسے انہوں نے پہچان لیا تو ( پھر بھی) اس کا انکار کر دیا۔پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہو۔( السيرة النبوية لابن هشام صفحه 381 ، ما نزل من البقرة فى المنافقين و يهود، دارالکتب العلمية بيروت 2001ء) (السيرة النبوية لابن هشام صفحه 512 ، غزوة سويق، صفحه 698 ، قصة الشاة المسمومة، دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) (الروض الانف فى شرح السيرة النبوية لابن هشام جلد2صفحه 325 باب کاهنه قریش، مكتبه ابن تيميه 1990ء) حضرت زبیر بن عوام بیان کرتے ہیں کہ جب جنگ احد کا رخ پلٹا تو میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پایا۔جب ہم سب بد حواس اور خوف زدہ تھے اور ہم پر نیند نازل کر دی گئی۔ایسی حالت تھی کہ لگتا تھا کہ اونگھ کی حالت ہم پر طاری ہو گئی ہے۔چنانچہ ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کی ٹھوڑی اس کے سینے پر نہ ہو۔یعنی نیند اور غنودگی کی حالت میں سر نیچے ڈھلک گئے تھے۔کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے معتب بن قشیر کی آواز خواب میں سنائی دے رہی ہے۔وہ کہہ رہا تھا کہ اگر ہمیں فیصلے کا اختیار ہوتا تو ہم کبھی یہاں اس طرح قتل نہ کیے جاتے۔معتب بن تیر انصاری صحابی تھے اور بیعت عقبہ ، غزوہ بدر اور احد میں شامل ہوئے تھے۔میں نے ان کے اس جملے کو یاد کر لیا جب اس طرح خواب کی حالت میں دیکھا تھا۔اس موقع کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ثُمَّ انْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِ آمَنَةً نُّعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِّنْكُمْ وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ - يَقُولُونَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ إِنَّ (آل عمران:155) الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلهِ کہ پھر اس نے تم پر غم کے بعد تسکین بخشنے کی خاطر اونگھ اُتاری جو تم میں سے ایک گروہ کو ڈھانپ رہی تھی۔جبکہ ایک وہ گر وہ تھا کہ جنہیں ان کی جانوں نے فکر مند کر رکھا تھا وہ اللہ کے بارے میں جاہلیت کے گمانوں کی طرح ناحق گمان کر رہے تھے۔وہ کہہ رہے تھے کہ کیا اہم فیصلوں میں ہمارا بھی کوئی عمل دخل ہے ؟ تو کہہ دے کہ یقینا فیصلے کا اختیار کلیۃ اللہ ہی کو ہے۔حضرت کعب بن عمر و انصاری نے بیان کیا ہے کہ غزوہ احد کے دن ایک موقع پر میں اپنی قوم کے 14 آدمیوں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا اس پر ہم پر اونگھ طاری تھی۔جو بطور امن کے تھی یعنی بڑی سکون والی اونگھ تھی۔جنگی حالت تھی لیکن وہ ایسی اونگھ تھی جو ہمیں سکون دے رہی تھی۔کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے سینے سے دھونکنی کی طرح خراٹوں کی آواز نہ نکل رہی ہو۔بعض دفعہ ایسی گہری حالت بھی ہو گئی تھی۔کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ بشر بن براء بن معرور جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی اور انہیں تلوار کے گرنے کا احساس بھی نہ ہو حالانکہ مشرکین ہم پر چڑھے آ رہے تھے۔(السيرة الحلبية جلد2 صفحه 310 ، باب ذكر مغازية، غزوة أحد، دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) (اسد الغابه في معرفة الصحابه جلد 4 صفحه 432 معتب بن قشیر ، دارالفکر بيروت 2003ء)