خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 621 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 621

خطبات مسرور جلد 17 621 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019 یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا سر دار سفید رنگ والا ، ریالے بالوں والا بشر بن براء بن معرور ہے۔(الاصابة في تمييز الصحابة الجزء الاول ، صفحه 426-427 ، بشر بن البراء، دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) (الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 291 ، بشر بن البراء، داراحياء التراث العربي 1996ء) حضرت بشر بن بر الو نے حضرت قیہ بنت صنیفی سے شادی کی جس سے ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام عالیہ تھا۔حضرت قبیہ نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بھی کی۔الطبقات الكبرى الجزء 8 صفحه 435 ، قُبَيْسَة بنت صَيْفِى، دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہود اوس اور خزرج کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے فتح کی دعا مانگا کرتے تھے۔آپس میں لڑتے تھے تو یہ دعامانگا کرتے تھے۔یہ نبی جس کی پیش گوئی ہے مبعوث ہونے والا ہے اس کے نام پہ ہمیں فتح عطا کر۔اللہ تعالیٰ سے مانگتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں سے مبعوث فرمایا تو انہی لوگوں نے آپ کا انکار کیا اور جو بات وہ کہا کرتے تھے اس سے انکاری ہو گئے۔یہی طریقہ ہے ہمیشہ سے انکار کرنے والوں کا۔حضرت معاذ بن جبل اور حضرت بشر بن براء اور داؤد بن سلمہ نے ان سے ایک دن کہا کہ اے یہود کے گروہ ! اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کر لو۔پہلے تو تم ہم پر محمد نام کے نبی کے ظہور کے ذریعہ فتح مانگتے تھے۔یہ کہا کرتے تھے کہ یہ نبی مبعوث ہو گا جس کا نام محمد ہو گا اور اس کی وجہ سے فتح کی دعا کیا کرتے تھے اور ہم شرک کرنے والے تھے۔حضرت بشر بن بر اثر نے کہا کہ ہم تو ان لوگوں میں شامل تھے جو شرک کرتے تھے اور تم ہمیں یہ باتیں بتایا کرتے تھے اور تم ہمیں یہ بتاتے تھے کہ وہ نبی مبعوث ہونے والا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ وہ مبعوث ہو گا اور ہمیں اس کی علامات بتایا کرتے تھے کہ یہ یہ علامتیں ہوں گی۔اب مبعوث ہو گیا ہے تو اب اس نبی پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔سلام بن مشکم یہودی نے جو قبیلہ بنو نضیر میں سے تھا (سلام بن مشکم یہود کے قبیلہ بنو نضیر کا سر دار اور ان کے خزانے کا نگران بھی ہوتا تھا۔یہ اس عورت زینب بنت حارث کا خاوند تھا جس نے غزوہ خیبر میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر آلود گوشت دیا تھا۔بہر حال) اس نے جواب دیا کہ وہ نبی ہمارے پاس وہ نہیں لے کر آیا جسے ہم پہچانتے ہیں اور نہ آپ وہ نبی ہیں جن کا ہم نے تم سے ذکر کیا تھا۔ساری علامتیں پوری ہو گئیں جو یہ کہتے تھے۔کہتے نہیں ہم پر وہ لے کر نہیں آیا جو ہم پہچانتے ہیں۔ساری علامتیں پوری نہیں ہوئیں اس لیے ہم نہیں مانیں گے۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتب مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ - وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ - فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَفِرِينَ۔(البقرة : 90) یعنی اور جب اللہ کی طرف سے ان کے پاس ایک ایسی کتاب آئی جو اس ( تعلیم ) کی جو ان کے پاس تھی تصدیق کر رہی تھی جبکہ حال یہ تھا کہ اس سے پہلے وہ ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے کفر کیا( اللہ سے) مدد