خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 620
خطبات مسرور جلد 17 620 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2019 ان کی شہادت کے بعد ان کی بیوی حضرت ہند نے انہیں اور اپنے بھائی عبد اللہ بن عمرو کو بھی ایک سواری پر رکھا اور ان دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ میں نے عمرو کو جنت میں اپنے لنگڑے پن کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا ہے۔(اسدالغابة جلد 4 صفحه 195-196 عَمْرو بن الجموح ، دار الكتب العلمية بيروت 2008ء) پھر اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام حضرت بشر بن براء بن مغرور ہے۔حضرت بشر کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو عبید بن عدی سے تھا اور دوسرے قول کے مطابق بنو سلمہ سے تھا۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 471 ، باب الانصار ومن معهم، دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) (اسد الغابة في معرفة الصحابة لابن اثير جلد1صفحه 380 ، بشر بن البراء ، دار الكتب العلميه بيروت 2008ء) دو مختلف روایتیں بیان کی جاتی ہیں۔حضرت بشر کے والد کا نام حضرت براء بن مغرور اور والدہ کا نام خُلیدہ بنت قیس تھا۔الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 291، بشر بن البراء، دار احياء التراث العربي 1996ء) حضرت شر کے والد حضرت براء بن مغرور اُن بارہ (12) نقیبوں میں سے تھے جو مقرر کیے گئے تھے اور قبیلہ بنو سکہ کے نقیب تھے۔حضرت براہ مہجرت سے ایک ماہ قبل حالت سفر میں فوت ہو گئے تھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ان کی قبر پر تشریف لے جا کر چار تکبیرات ادا فرمائیں۔(اسد الغابة فى معرفة الصحابة لابن اثير جلد 1 صفحه 365-366 ، البراء بن معرور، دارالکتب العلميه بیروت 2008ء) حضرت شٹر اپنے والد کے ساتھ بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے اور حضرت بشر بن بر اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماہر تیر انداز صحابہ میں سے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بشر اور حضرت واقد بن عبد اللہ جنہوں نے مکے سے مدینے کی طرف ہجرت کی تھی، ان کے درمیان عقد مؤاخات قائم فرمایا۔حضرت بشر غزوہ بدر ، أحد ، خندق ، اور خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔حدية (الاصابة في تمييز الصحابة الجزء الاول، صفحه 426، بشر بن البراء، دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) (الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 291، بشر بن البراء، داراحياء التراث العربي 1996ء) عبد الرحمن بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو نضلہ ! ( بعض روایت میں بنو سلمہ لکھا ہے کہ) تمہارا سر دار کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جد بن قیں۔آپ نے فرمایا کہ اسے کس وجہ سے سردار مانتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ ہم سے زیادہ مال دار ہے۔بڑا امیر آدمی ہے۔بڑا آدمی ہے اس لیے ہم نے اس کو سردار بنالیا ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم محض بخل کی وجہ سے اسے معیوب سمجھتے ہیں۔وہ بڑا بخیل ہے ، کنجوس ہے اور اس کی یہ بات ہمیں پسند نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخل سے زیادہ بڑی بیماری کون سی ہے؟ یہ بخیل ہونا تو بہت بڑی بیماری ہے۔وہ تمہارا سر دار نہیں ہے اور اس وجہ سے وہ تمہار اسر دار نہیں ہو سکتا۔انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! پھر ہمارا سر دار کون ہے آپ ہی بتا دیں؟ آپ نے فرمایا کہ بشر بن براء بن مغرور تمہارا سردار ہے جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے۔ان کے بارے میں فرمایا کہ یہی تمہارا سر دار ہے اور ایک دوسری روایت میں